عرفان کو کُلّی طور پر بُعدِ باطنی اور علمِ مکنوں کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ حقیقت میں کہا جاسکتا ہے کہ عرفان اسلام کا اصل جوہر ہے۔ عرفا کی تعریف پابند مسلمانوں کے طور پر کی جاسکتی ہے جو پنجگانہ نماز ادا کرتے ہیں، انفاق کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں… اور اسلام کے ظاہری مسائل میں باقاعدہ رعایت برتتے ہیں۔ تاہم اُن کی شناخت کی وجہ اپنے اور دوسروں کے روحانی ابعاد کی تربیت ہے۔
طولِ تاریخ میں اکثر 'صوفی'(عارف) کے نام سے فورًا ایک ایسا شخص ذہن میں آتا ہے جو دینی عالم اور تقرّب الی اللہ کی طلب میں ہے۔ جیسا کہ حضرت محمّد(ص) نے اعلان فرمایا: خداوند کی توحید کی گواہی "لا الٰہ الّا اللہ" کی گواہی میں متجلّی ہے۔ ایسے مقام کا حصول اِس معنی کو نمایاں کرتا ہے کہ صرف خداوند ہی انسان کے دل میں ہے اور یہی لفظِ 'صفا' کے اصل معنی ہیں۔
ایسی روش اور طریقِ شناخت، جو تزکیے، صفاے قلب اور دانشِ ذاتی کی تسلیم سے حاصل ہوتا ہے، 'معرفت' کہلاتا ہے۔ تصوّف کی تعریف کرنے والا مناسب تر لفظ 'عرفان' ہے، جو 'معرفت' (شناخت) سے مشتق ہے۔ معرفت کے معنی شناخت کے اُس مرتبے کا حصول ہے جس میں موردِ تحقیق و تجسّس موضوع، یعنی انسان کے زاویوں میں سے کوئی زاویہ ناشناختہ نہ رہ جائے اور آخرِکار انسان اپنی اصل شناخت کے ساتھ پروردگار کی شناخت اور پوشیدہ علم کی دریافت اور اسرارِ ہستی حاصل کرے۔ مکتبِ عرفان کا معلّم 'عارف' کہلاتا ہے۔ عارف اپنی وجودی حقیقت کو ذاتِ خداوندی میں فنا اور حقیقتِ ہستی میں ثبات کے ذریعے منکشف کرچکا ہوتا ہے۔
حضرت صلاح الدیّن علی نادر عنقا اپنی کتاب "مَیں کی تھیوری" میں عرفان کی تعریف اِس طرح فرماتے ہیں:
لفظ 'عرفان' "معرفت" کے لفظ سے مشتق ہے جو 'شناخت' کے معنوں میں ہے۔ اِس قول میں شناخت سے مراد خودشناسی ہے، جو ہستی کی واقعی شناخت اور انسان کے علمِ الٰہی سے مملو ہونے اور ہستی کے راز کو پانے پر منتج ہوتا ہے۔ عرفان پیغمبروں کے عمل کی روش اور اُن کا طریق ہے اور یہ اِس وجہ سے میں نے عرفان کی "واقعیتِ دین" کے معنوں میں تعریف کی ہے۔ عرفان یہ سکھاتا ہے کہ نفسِ علم، بشریت کی میراث ہے، لیکن فقط وہی لوگ اُس کے حصول اور دریافت پر قادر ہوتے ہیں جو حقیقتًا اُس کی جستجو کرتے ہیں اور اُسے پا لیتے ہیں۔ انسان پیغمبروں کا پیغام اپنی حیات کے دوران اُن کے کلام کی حقیقت کو مکمّل طور پر تجربہ کرکے منکشف کیے بغیر ہرگز نہیں سمجھ سکتا۔1
عرفان کی جڑیں ۱۴۰۰ سال پہلے حضرت محمّد(ص) کے زمانے تک پہنچتی ہیں۔ یہ بدیہی ہے کہ معاشرتی، ثقافتی، قومی اور قبائلی اسباب مسلسل دینی حقائق کی تحریف کا سبب بنے ہیں اور موہوم خیالات اور عمومی اذہان کے ساختہ و پرداختہ محدود نتائج نے حقیقتِ دین اور اُس کے حیات بخش پیغام کی جگہ لے لی ہے۔
اکثر مشہور اور معتبر محقّقین نے بھی اِس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ عرفان پیغمبرِ اکرم(ص) کی تعلیمات کی واقعیّت اور اسلام کے بطن سے ابھرا ہے۔ این میری شمل (Ann Marie Schimmel) اپنی کتاب "اسلام کے باطنی اور سِرّی پہلو" میں کہتی ہیں کہ عرفان کی جڑیں حضرت محمّد(ص) کے زمانے کی طرف لوٹتی ہیں اور حقیقت میں حضرت محمّد(ص) ہی روحانی عرفان کے سلسلے کی پہلی کڑی ہیں۔ حضورِ اکرم(ص) کی معراج کا واقعہ اسلام میں خدا کی بارگاہ تک روحِ انسان کی بلندی اور عروج کا واضح ترین نمونہ ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا ہے کہ احادیث اور سنّت کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ علمِ الٰہی حضرت محمّد(ص) کے ذریعے حضرت علی ابنِ ابی طالب کی طرف منتقل ہوا۔
این میری شمل نے اِس نکتے کا بھی ادراک کیا ہے کہ:
قدیم صوفیوں کے بارے میں کشف شدہ نکات یہ پتا دیتے ہیں کہ نویں صدی میں عرفان سے منسوب بعض تعریفیں اُس زمانے سے بہت پہلے کے زمانےسے مربوط ہو سکتی ہیں۔ اِسی طرح یہ نکات یہ بھی مشخّص کرتے ہیں کہ شیعوں اور صوفیوں کے عقائد کس حد تک ابتدائی برسوں میں ایک دوسرے سے مربوط تھے۔2
رینالڈ نکلسن بھی یہ دریافت کرتا ہے کہ عرفان اور اُس کی اصل اور اوّلین تحریک بغیر کسی مشکل کے بڑی وضاحت کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی جڑوں میں ملتی ہے۔ اِس بنا پر بڑی صراحت اور اطمینان کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
حقیقی اور اصل عرفان اسلام سے متعلّق ہے اور اِس کا سرچشمہ اسلام ہے۔3
جرمنی کا ایک پروفیسر تولاک (F.A.D.Tholuck) نے، جو الٰہیات میں صاحبِ نظر ہے، عرفان کے موضوع پر اوّلین جامع کتاب ۱۸۲۱ء میں طبع کی اور اُس کے چار سال بعد ایک اَور کتاب، جس کا نام (Bluthensammlung aus der Morganlandischen Mystik) ہے، شائع کی۔ تولاک اپنی کتاب میں بڑی وضاحت سے اِس نتیجے تک پہنچا ہے کہ:"عرفان اور اُس کے اصول اور بنیادیں حضرت محمّد(ص) کے باطنی علم اور تجربات پر مبنی ہیں۔"4
1 - Molana Salaheddin Ali Nader Angha, Theory "I" (M.T.O. Publication, Riverside CA, 2002) p. 122.
2 - Annemarie Schimmel, Mystical Dimensions of Islam,(University of North Carolina Press,1975)p.42
3 - Reynold A. Nicholson, The Mystics of Islam, ( 1914: reprint ed., Chester Springs, Pa.,1962)p.10
4 -Friedrich august Deofidus Tholuck, Ssufissmus sive theorsophia persarum pantheistica (Berlin, 1821). Quoted in The Mystical Dimensions of Islam.