
- مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی® کی تاریخ
- حضرت جلال الدّین علی میر ابوالفضل عنقا
- حضرت میر قطب الدّین محمّد عنقا
- حضرت شاہ مقصود صادق عنقا
- موجودہ اُستادِ عرفان
مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی® (مکتبِ عرفانِ اسلامی)
تاریخ
"جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اُس نے حقیقتًا خدا کو پہچانا۔"
پیامبرِ اکرم حضرت محمّد(ص)
مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی® کا سلسلہ اِکتالیس عالی قدر اساتذہ اور بلندمرتبہ عرفا کی وساطت سے حضرت اویسِ قرنی تک پہنچتا ہے اور اُن کے ذریعے مولاے متّقیاں حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) اور حضرت خاتم الانبیا محمّد مصطفی(ص) سے جڑتا ہے۔ حضرت اویسِ قرنی حضرت نبیٔ اکرم(ص) کے زمانے میں یمن میں رہتے تھے۔
اسلام کے مقدّس پیام اورسنّتِ رسولِ اکرم حضرت محمّد(ص) کی حرمت مکتبِ طریقتِ اویسی® کے ممتاز عرفا کی تعلیمات کے تسلسل کے ساتھ آج تک محفوظ ہے۔ اِن عالی قدر ہستیوں نے رائج الوقت غلط تعلیمات کو رد کرتے ہوئے اسلام کے حقیقی پیغام کو اپنی تعلیمات، کتب اور شاگردوں کے ذریعے مسلسل رواج دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگوں کی قربانیوں اور بے لوث خدمات کے بغیر اسلام کی واقعیت ہمارے دَور میں پھل پھول نہ سکتی تھی۔
مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی® (مکتبِ عرفانِ اسلامی) کی وجہِ تسمیہ حضرت اویسِ قرنی کا نام ہے۔ حضرت اویسِ قرنی کی شناختِ باطنی کی روش کو آں حضرت (ص) کی تائید حاصل رہی ہے۔ علم الٰہی حضرت اویس کے زمانے سے لے کر آج تک عظیم پیروں کے ایک ایسے سلسلے کے ذریعے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آرہا ہے جس میں کبھی کوئی انقطاع نہیں آیا۔ محقّقین اور دانشور اِن عظیم ہستیوں سے خوب آگاہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں حضرت مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا مکتب طریقت اویسی شاہ مقصودی کے استاد اور پیر ہیں۔
چودہ سو سال سے زیادہ عرصے سے مکتبِ طریقتِ اویسی کے استاد اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے آئے ہیں کہ وہ تقلید نہ کریں، بلکہ خود میں پوشیدہ صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے شناخت حاصل کریں، آگے بڑھیں اور اپنی زندگی کی باگ اپنے ہاتھ میں تھام لیں۔
حضرت اویس قرنی حضرت نبیٔ اکرم(ص) کے زمانے میں یمن میں اور بظاہر حضور(ص) سے بعید فاصلے پر زندگی بسر کرتے رہے، لیکن ظاہر ہے کہ اُنھوں نے حضرت محمّد(ص) سے باطنی طور پر حاصل کردہ اسلامی تعلیمات کی حقیقت پر مبنی زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ حضرت محمّد (ص) نے اُن کی تعریف یوں فرمائی ہے:
"میں یمن کی جانب سے رحمٰن کی خوش بو محسوس کرتا ہوں۔"
اپنی حیاتِ ظاہری کے آخری دنوں میں حضرت رسولِ اکرم(ص) نے اپنا خرقۂ مبارک، جو ارشاد و تعلیم کی اجازت کے مترادف تھا، حضرت علی بن ابی طالب(ع) و حضرت عمر بن الخطّاب کے سپرد کر کے فرمایا:
"میرے بعد تم اویس نامی شخص سے ملو گے، یہ امانت اُنھیں دینا اور اُن سے کہنا کہ میری امّت کے لیے دعا کریں۔" مزید فرمایا: "میری امّت سے کہنا کہ اویس کے نقش قدم پر چلیں۔"
ہجویری نے"کشف المحجوب"i میں، فریدالدّین عطّار نیشاپوری نے"تذکرۃالاولیا"ii میں اور جلال الدّین شیخ محمّد قادر باقری نمینی نے "اقطاب اویسی"iii میں نقل کیا ہے کہ حضرت رسول اکرم(ص) سے سب سے پہلے جنھیں خرقے کا اعزاز حاصل ہوا، وہ اویسِ قرنی تھے۔
مولوی"مثنوی" 4 کے چوتھے حصّے میں یوں لکھا ہے:
که محمّد گفت بر دست صبا از یمن می آیدم بوی خدا
بوی رامین می رسد از جان ویس بوی یزدان می رسـد هم از اویس
از اویس و از قرن بوی عجب مر نبی را مست کرد و پر طرب
چون اویس از خویش فانی گشتہ بود آن زمینی آسمانی گشتہ بود
[ کہ محمّد (ص) نے فرمایا، صبا کے ذریعے   مجھے یمن سے خدا کی خوش بو آرہی ہے
ویس کی جان سے رامین* کی خوشبو آ رہی ہے   اویس میں سے بھی خدا کی خوش بو آ رہی ہے
اویس اور قرن کی عجیب خوشبو نے   نبی(ص) کو مسرور کر دیا
چون کہ اویس اپنے آپ سے فانی ہوگئے تھے   وہ زمین آسمان بن گئی تھی]
حضرت اویس نے فرمایا ہے: "قلب سے اپنے تم رجوع کرو۔"
"عَلیکَ بِقَلبکَ"
اس طرح حضور (ص) نے قلب سے قلب تک ابلاغ کا طریقہ اختیار کیا، جس سے حضرتِ اویس نے اسلام کا جوہر پایا۔ خرقہَ مبارک کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل نسل در نسل حضرت ابراہیم (ع) سے حضرت محمد ص تک اور پھر حضرت اویسِ قرنی اور دیگر ہدایت یافتہ اساتذہ تک پہنچا۔
تاریخ خرقہَ مبارک
خرقہَ مبارک کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل نسل در نسل حضرت محمد (ص) سے حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کے ذریعے حضرت اویسِ قرنی اور سلمان فارسی تک پہنچا۔ اُس وقت سے موجودہ دور تک، ۱۴۰۰ سال کے عرصے میں یہ خرقہ مکتبِ طریقتِ اویسی مکتبِ عرفانِ اسلامی کے بیالیس ہدایت یافتہ اساتذہ کے غیرمنقطع سلسلے کے پاس رہا۔ موجودہ خرقہ یافتہ اور مکتب کے بیالیسویں پیر حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا ہیں۔
حضرت پیر صلاح الدّین علی نادر عنقا کو ۱۳/شہریور ۱۳۴۹ ہجری شمسی، مطابق چوتھی ستمبر۱۹۷۰ عیسوی کو رسمًا بیالیسویں قطبِ طریقۂ اویسی شاہ مقصودی مقرّر ہونے پر حضرت اویس قرنی کا خرقۂ مبارک اپنے محبوب والد اور اُستاد حضرت شاہ مقصود صادق عنقا کے توسّط سے عطا ہوا۔ اس طرح وہ اُن کی جانشینی سے مشرّف ہوئے۔
حضرت پیر کی والدہ خانم ماہ طلعت اعتماد مقدّم اپنےفرزند سے متعلّق اپنی کتاب" از محمّد تا محمّد" میں، جو طریقۂ اویسی میں اقطاب کے غیرمنقطع سلسلے کو بیان کرتی ہے، یوں لکھا ہے: "تیرہ سو اُنتالیس ہجری شمسی، بمطابق چوتھی ستمبر 1970 عیسوی کو حضرت شاہ مقصود کی موجودگی میں ایک مجلس رہنمائی میں، جس میں مریدوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اُنھوں نے اپنے والد کے دستِ مبارک سے خرقے کا تبرّک پایا۔ حضرت شاہ مقصود نے اپنی تقریر کے دوران خرقہ اُنھیں تفویض کیا"۔
حضرت شاہ مقصود اپنی کتاب "حماسۂ حیات" میں فرماتے ہیں:
خرقۂ فقر اویسی با ماست یعنی این فقر کہ با ماست غناست
[اویسی فقر کا خرقہ ہمارے پاس ہے
یعنی یہ فقر جو ہمارے پاس ہے، استغنا ہے]
خرقے کی تفویض کا موضوع حضرت رسول اکرم(ص) اور مکتبِ عرفان اسلامی کی بنیاد گزاری کے زمانے سے اب تک دو اہم اور بنیادی اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ اوّلًا معلّم کی شناخت طریقۂ باطن سے ثابت ہونی چاہیے اور ثانیًا اِس شناخت کے ثبوت کی ظاہری بھی تائید ہونی چاہیے، جس طرح حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) اورحضرت اویس قرنی کا اتّصال باطنی حضرت پیامبر(ص) سے اسی طریقے سے ثابت ہے۔
اُس دور کے بعد درجِ بالا طریقے کے مطابق خرقے کی تفویض اور حقیقت کی دریافت کی اصل، جو انسانی شخصیت کی پیش کش کو اعلٰی ترین مقام پر نمایاں کرنے والی اور دریافت کنندہ کے لیے افتخار اور بلندترین قیمت ظاہر کرنے والی ہوتی ہے، بغیر کسی وقفے کے عصرِ حاضر تک تسلسل کی حامل ہے۔ یہ اہم کام مکتبِ عرفانِ اسلامی® میں ایک بے نظیر مقام رکھتا ہے؛ استاد کا مقام، جسے 'پیر' یا 'قطب' کا نام دیا جاتا ہے، جو حقیقت میں طریقۂ معرفت کا مظہر اور اصل اور قوام ہے۔
چوں کہ حضرت پیر معظّم کے والد، دادا اور پر دادا بھی طریقتِ اویسی کے اقطاب ہیں، لہٰذا فطری طور پر بچپن ہی سے اپنے دادا حضرت میرقطب الدّین محمّد عنقا اور اپنے والد حضرت شاہ مقصود کی نگرانی میں حضرت کی تعلیم کا آغاز ہوا۔
حضرت پیر مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا، موجودہ استاد اور بیالیسویں قطبِ مکتب طریقت اویسی® بھی اپنے عالی قدر اساتذہ کی طرح، عرفان اسلامی اور تصوّف کے حقیقی اور جاوداں اصولوں کو موجودہ علمی زبان میں بیان فرماتے اور اُن کی تعلیم دیتے ہیں اور حضرتِ والا کی راست نگرانی میں دنیا بھر کی خانقاہوں میں اِس مکتب کی تعلیمات، انسان کے لیے انفرادی آموزش و پرورش کے طریقے سے سکون اور جاودانی اور اپنی حقیقی اقدار سے آشنائی کی نعمتوں کے حصول پر مبنی ہیں۔
مکتبِ عرفانِ اسلامی® کے تعلیمی پروگرام ہر فرد کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجّہ ہونے پر مبنی ہیں اور اِن کا ہدف شخصیت کی حقیقی شناخت اور اُس کی معنوی قدریں ہیں جن سے انجامِ کار قومی، معاشرتی، عقائدی، سیاسی، جغرافیائی اور نسلی تضادات ختم ہو جائیں گے، تا کہ وہ اپنے وجود کی حقیقت سے آگاہ ہو سکیں اور یوں باہم اور دوسروں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی سے رہ سکیں۔
مختلف قومی، مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی ماحول سے قطعِ نظر بغیر کسی رکاوٹ کے دینی حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ہر ایک کے لیے مکتب کی اِن تعلیمی کلاسوں میں حاضری کی سہولت فراہم ہے۔ آج پوری دنیا میں پانچ لاکھ سے زیادہ طالبِ علم اِس مکتب کی قائم کی ہوئی شمالی امریکا، یورپ، آسٹریلیا، افریقہ اور ایشیا کے طول و عرض میں میں قائم خانقاہوں کی متعدّد جماعتوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
سلسلۂ اقطابِ اویسی
حضرت محمّد(ص)
حضرت امیرالمؤمنین علی(ع)
۱- حضرت اویس قرنی اور حضرت سلمان فارسی
۲- حضرت حبیب ابن سلیم راعی
۳- حضرت سلطان ابراہیم ادہم
۴- حضرت ابوعلی شقیق بلخی
۵- حضرت شیخ ابوتراب نخشبی
۶- حضرت شیخ ابی عمرو اصطخری
۷- حضرت ابوجعفر حذّاء
۸- حضرت شیخ کبیر ابو عبداللّہ محمّد ابن خفیف شیرازی
۹- حضرت شیخ حسین اکّار
۱۰- حضرت شیخ مرشد ابواسحق شہریار کازرونی
۱۱- حضرت خطیب ابوالفتح ابوالقاسم ابن عبدالکریم
۱۲- حضرت علی ابن حسن بصری
۱۳- حضرت سراجﺍلدّین ابوالفتح محمود ابن محمودی صابونی بیضاوی
۱۴- حضرت شیخ ابو عبداللّہ روزبہان بقلی شیرازی
۱۵- حضرت شیخ نجم الدّین طامّہ الکبری خیوقی
۱۶- حضرت شیخ رضی الدّین علی لالا غزنوی
۱۷- حضرت شیخ احمد ذاکر جوزجانی
۱۸- حضرت نورالدّین عبدالرّحمن اسفراینی
۱۹- حضرت شیخ علاء الدّولہ سمنانی
۲۰- حضرت شیخ محمود مزدقانی
۲۱- حضرت امیر سیّد علی ہمدانی
۲۲- حضرت شیخ احمد ختلانی
۲۳- حضرت سیّد محمّد عبداللہ قطیفی الحصاوی نوربخش
۲۴- حضرت شاہ قاسم فیض بخش
۲۵- حضرت حاج حسین ابرقوئی جانبخش
۲۶- حضرت درویش حاج محمّد سوداخری سبزواری
۲۷- حضرت درویش ملک علی جوینی
۲۸- حضرت درویش علی سُدیری
۲۹- حضرت درویش کمال سُدیری
۳۰- حضرت درویش محمّد مذہّب کارندہ ای (معروف بہ پیر پالاندوز)
۳۱- حضرت میر محمّد مؤمن سُدیری سبزواری
۳۲- حضرت میر محمّد تقی شاہی مشہدی
۳۳- حضرت میر مظفّرعلی
۳۴- حضرت میر محمّدعلی
۳۵- حضرت سیّد شمسﺍلدّین محمّد
۳۶- حضرت حاج عبدالوہّاب نائینی
۳۷- حضرت حاج محمّد حسن کوزہ کنانی
۳۸- حضرت آقا عبدالقادر جہرمی
۳۹- حضرت جلال الدّین علی میرابوالفضل عنقا
۴۰- حضرت میرقطب الدّین محمّد عنقا
۴۱- حضرت شاہ مقصود صادق عنقا
۴۲- حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا