مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کا سلسلہ اِکتالیس عالی قدر اساتذہ اور بلند مرتبہ عرفا کی وساطت سے حضرت اویسِ قرنی تک پہنچتا ہے اور اُن کے ذریعے مولاے متّقیان حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) اور حضرت خاتم الانبیاء محمّد مصطفی(ص) سے جڑتا ہے۔حضرت اویس قرنی حضرت نبیّ اکرم(ص) کے زمانے میں یمن میں اور ظاہراً آن حضرت سے دور ی کے فاصلے پر زندگی بسر کرتے رہے، لیکن ظاہر ہے کے انہوں نے حضرت محمّد حضرت محمّد(ص) سے باطنی طور پر حاصل کردہ اسلامی تعلیمات کی حقیقت پر مبنی زندگی گزاری۔ یہان تک کہ حضرتِ پیغمبر (ص) نے اُن کی تعریف یوں فرمائی ہے:
« میں رحمٰن کی خوش بو یمن کی جانب سے محسوس کرتا ہوں۔»
اپنی حیاتِ ظاہری کے آخری دنوں میں حضرت رسولِ اکرم(ص) نے اپنا خرقۂ مبارک،جو ارشاد و تعلیم کا اجازت کا مترادف تھا، حضرت علیّ بن ابی طالب(ع) و عمر بن الخطّاب کے سپردکر کے فرمایا:
«میرے بعد تم اویس نامی شخص سے ملو گے ، یہ امانت اُنہیں دینا اور اُن سے کہنا کہ میری امّت کے لیے دعا کرین۔»
ہجویری نے"کشف المحجوب"1میں،فریدالدّین عطّار نیشابوری نے"تذکرۃالاولیا"2مین اور شیخ محمّدباقر قادری نمینی نے" اقطاب اویسی"3 مین نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے جسے حضرت رسول اکرم(ص) سے خرقے کا اعزاز حاصل ہوا، اویسِ قرنی تہے۔
مولوی" مثنوی " 4 کے چوتھے حصّے میں یوں لکھا ہے:(اشعار)
|
کہ محمّد (ص) نے فرمایا، صبا کے ذریعے
مجھے یمن سے خدا کی خوش بو آرہی ہے
ویس کی جان سے رامین2کی خوشبو آرہی ہے
اویس میں سے بہی خدا کی خوش بو آرہی ہے
اویس اور قرن کی عجیب خوشبو نے
نبی(ص) کو مست اور مسرور کردیا
چون کہ اویس اپنے آپ سے فانی ہوگئے تھے
وہ زمین آسمان بن گئی تھی
|
اِس طرح پیامبر مکّرم اسلام(ص)نےطریقۂ باطنی کی تأئید فرمائی ، جو حقیقتًا حقیقی اصولِ حیات کو دریافت کرنے کا واحد طریقہ ہے، یعنی یہ حضرت اویس ہیں جنھوں نے اسلام کے جوہر اور اصل کو باطن کے راستے اپنے زمانے کے معلّم سے حاصل کیا ہے۔
خرقہ کی تفویض کاموضوع حضرت رسول اکرم(ص) اور مکتبِ عرفان اسلامی کی بنیاد گزاری کے زمانے سے اب تک دو اہم اور بنیادی اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ اوّلاً معلّم کی شناخت طریقۂ باطن سے ثابت ہونی چاہیے اور ثانیاً اِس شناخت کے ثبوت کےظاہراً بھی تائید ہونی چاہیے۔جس طرح حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) اورحضرت اویس قرنی کا اتصّال باطنی حضرت پیامبر(ص) سے نیز اسی طریقے سے ثابت ہوا ہے۔
اُس دور کے بعد درجِ بالا طریقے کے مطابق خرقے کی تفویض اور حقیقت کی دریافت کی اصل ، جو انسانی شخصیت کی پیش کش کو اعلیً ترین مقام پر نمایاں کرنے والی اور دریافت کنندہ کے لیے افتخار اور بلندترین قیمت ظاہر کرنے والی ہوتی ہے، بغیر کسی وقفے کے عصرِ حاضر تک تسلسل کے حامل ہے۔ یہ اہم کام مکتبِ عرفانِ اسلامی میں ایک بے نظیر مقام رکھتا ہے؛ استاد کا مقام جسے پیر یا قطب کانام دیا جاتا ہے، جو حقیقت میں طریقۂ معرفت کا مظہر اور اصل اور قوام ہے۔
حضرت پیر معظّم، مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا، ۱۳/شہریور ۱۳۴۹ ہجری شمسی، مطابق چوتھی ستمبر۱۹۷۰ عیسوی کو رسماً بیالیسویں قطبِ طریقۂ اویسی شاہ مقصودی مقرر ہونے پر اُنھیں حضرت اویس قرنی کا خرقۂ مقدّس اپنے عظیم الشّأن والد اور اُستاد حضرت شاہ مقصود صادق عنقا کے توسّط سے عطا ہوا اور وہ اس طرح اُن کی جانشینی سے مشرّف ہوئے۔
حضرت شاہ مقصود در کتاب حماسۂ حیات فرمودہ اند:
خـرقـۂ فـقـر اویـسـی بـا مـاست یعنی این فقر کہ با ماست غناست
[ اویسی فقر کا خرقہ ہمارے پاس ہے
یعنی یہ فقر جو ہمارے پاس ہے ،غنا ہے۔ ]
چوں کہ حضرت پیر معظّم کے والد ، دادا اور پر دادا بھی طریقتِ اویسی کے اقطاب ہیں ، لہًذا فطری طور پر بچپن ہی سے اپنے دادا حضرت میرقطب الدّین محمّد عنقا اور اپنے والد حضرت شاہ مقصود، کی نگرانی میں حضرت کی تعلیم کا آغاز ہوا۔
حضرت پیر، مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا، موجودہ استاداور بیالیسویں قطبِ مکتب طریقت اویسی نیز اپنے عالی قدر اساتذہ کی طرح، عرفان اسلامی ا ور تصوّف کے حقیقی اور جاوداں اصولوں کو موجودہ علمی زبان میں بیان فرماتے اور اُن کی تعلیم دیتے ہیں اور حضرتِ والا کی راست نگرانی میں دُنیا بھر کی خانقاہوں میں اِس مکتب کی تعلیمات ،انسان کے لیے انفرادی آموزش و پرورش کے طریقے سے آرام اور ہمیشگی اور اپنی حقیقی اقدار سے آشنائی کی نعمتوں کے حصول پر مبنی ہیں۔
حضرت پیر معظّم کے قلمی آثار پچاس مجموعوں سے تجاوز کر گئے ہیں اور دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔
1۔مثنوی معنوی، جلال الدّین رومی، (تہران ، انتشارات سپہر، 1354ھ.ش) دفتر چہارم، بیت 1826
2۔رامین اور ویس فارسی ادب میں مشہور پریمی جوڑا ہے ۔
(3۔کشف المحجوب،ُہجویری، (تہران، انتشارات طہوری، 1979
(4۔عطّار ،شیخ فریدالدّین،تذکرۃالاولیا،(تہران،انتشارات امیر کبیر،1964
(5۔اقطاب اویسی، شیخ محمّدباقر قادری نمینی، (تہران ، انتشارات امین، 1352ھ .ش
سلسلۂ اقطابِ اویسی
|
حضرت محمّد(ص) حضرت امیرالمؤمنین علی(ع)
۱- حضرت اویس قرنی
۲- حضرت سلمان فارسی
۳- حضرت حبیب ابن سلیم راعی
۴۔ حضرت سلطان ابراہیم ادہم
۵ ۔حضرت ابوعلی شقیق بلخی
۶۔ حضرت شیخ ابوتراب نخشبی
۷۔ حضرت شیخ ابی عمرو اصطخری
۸۔ حضرت ابوجعفر حذّاء
۹۔ حضرت شیخ کبیر ابو عبداللّہ محمّد ابن خفیف شیرازی
۱۰۔ حضرت شیخ حسین اکّار
۱۱۔ حضرت شیخ مرشد ابواسحق شہریار کازرونی
۱۲۔ حضرت خطیب ابوالفتح ابوالقاسم ابن عبدالکریم
۱۳۔ حضرت علی ابن حسن بصری
۱۴۔ حضرت سراجﺍلدّین ابوالفتح محمود ابن محمودی صابونی بیضاوی
۱۵۔ حضرت شیخ ابو عبداللّہ روزبہان بقلی شیرازی
۱۶۔ حضرت شیخ نجم الدّین طامّہ الکبری خیوقی
۱۷۔ حضرت شیخ علی لالا غزنوی
۱۸۔ حضرت شیخ احمد ذاکر جوزقانی
۱۹۔ حضرت نورالدّین عبدالرّحمان اسفراینی
۲۰۔ حضرت شیخ علاء الدّولہ سمنانی
۲۱۔ حضرت شیخ محمود مزدقانی
۲۲۔ حضرت امیر سیّد علی ہمدانی
۲۳۔ حضرت شیخ احمد ختلانی
۲۴۔ حضرت سیّد محمّد عبداللہ قطیفی الحصاوی نوربخش
۲۵۔ حضرت شاہ قاسم فیض بخش
۲۶۔ حضرت حاج حسین ابرقوئی جانبخش
۲۷۔ حضرت درویش ملک علی جوینی
۲۸۔ حضرت درویش علی سُدیری
۲۹۔ حضرت درویش کمال سُدیری
۳۰۔ حضرت درویش محمّد مذہّب کارندہ ای (معروف بہ پیر پالاندوز)
۳۱۔ حضرت میر محمّد مؤمن سُدیری سبزواری
۳۲۔ حضرت میر محمّد تقی شاہی مشہدی
۳۳۔ حضرت میر مظفّرعلی
۳۴۔ حضرت میر محمّدعلی
۳۵۔ حضرت سیّد شمسﺍلدّین محمّد
۳۶۔ حضرت حاج عبدالوہّاب نائینی
۳۷۔ حضرت حاج محمّد حسن کوزہکنانی
۳۸۔ حضرت آقا عبدالقادر جہرمی
۳۹۔ حضرت جلال الدّین علی میرابوالفضل عنقا
۴۰۔ حضرت میرقطب الدّین محمّد عنقا
۴۱۔حضرت شاہمقصود صادق عنقا
۴۲۔ حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا
|