MTO Shahmaghsoudi ®
مکتبِ عرفانِ اسلامی ®

عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے

دین ایک حقیقت ہے
عرفان،علم کا طریقہ
انسان: وجود کی کامل کتاب
علم کے شہر کا دروازہ
"آوازِ خدایان" سے اقتباس
حقیقت کے انکشاف میں دماغ کے حواس اور اختیارات کا محدود ہونا
تمرکز، قوّتوں کا جمع کرنا اور "میں" کا انکشاف


تمرکز، قوّتوں کا جمع کرنا اور "میں" کا انکشاف

'ہدایت، دل و دماغ اور حواس و فطرت کے اتّحاد میں ہے اور نفوس کی گم راہی اِن چاروں میں انتشار و تضاد کے باعث ہے۔"2
"پیامِ دل" از قلمِ مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا، پیرِ اویسی

کتاب ''تھیوریً من" از قلمِ مولانا صلاح الدین علی نادر عنقا، پیرِ اویسی۔1

تمرکز اور توانائیوں کو مرکوز کرکے لازمی ہم آہنگی حاصل کرنا انسان کے ابدی اور ملکوتی پہلوؤں کو منکشف کرنے کے لیے ضروری امر ہے۔ انسان کی واقعیت کو افکار اور ادراکات کے ذریعے حاصل کرنا ممکن نہیں اورحواس اپنے معیّن، مقرّرہ اور محدود تحصیلات کے ساتھ خودشناسی کی شاہ راہ پراُس کی رہنمائی نہیں کرسکتا۔ قابلِ توجّہ نکتہ یہ ہے کہ حقیقت کے انکشاف کے لیے لازم ہے کہ انسان ہم آہنگی میں موجود ہو، اور قبول کرنے کی لازمی صلاحیت اور ظرفیت کا حامل ہو۔

ہم آہنگی اور حصول کی صلاحیت:

انسان کے ملکوتی پہلو کا انکشاف، حصول و دریافت کی صلاحیت اور ہم آہنگی کی کیفیت سے وابستہ ہے۔ صلاحیت اِس مفہوم میں ہے کہ اُس کے حسّاسے (receptors) فعّال ہوں، اور کامل ہم آہنگی کے حامل ہوں۔ مثال کے طور پر ایک نومولود کے سلسلے میں جس قدر زیادہ اُس کی ماں اُس پر مہربانی کرے، اُسے گود میں اٹھائے، اُسی قدر اُس طفل کی حسّاسے فعّال تر ہوتے ہیں۔ اور نتیجتاً جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں میں بچّے کے حسّاسے کی قابلیت کو تقویت اور وسعت ملتی ہے۔ تحقیقات نے بچّوں کی ہدایت اور پرورش کے امور میں اِس نکتے کو ثابت کیا ہے کہ بچّے کے ساتھ محبت کے روابط برقرار رکھنا حیاتی اہمیت کا حامل ہے۔

جیسا کہ جسم کی حسّاسے کی وسعت اور تقویت ایک حد تک فطری سطح پر لازم ہے، ملکوتی اور روحانی دنیا کے ساتھ مربوط حسّاسوں کی پرورش بھی خاص اہمیت کی حامل ہے، تا کہ انسان روحانی پہلوؤں کی دریافت کی ظرفیت بھی حاصل کر سکے۔

حسّاسے کی اِس قابلیت کا انکشاف اور شناخت حافظے کے نظام کے استعمال اور ادراک کے ذریعے ممکن نہیں۔ باہمی تعلقات کے ہر مرحلے میں تمرکز اورہم آہنگی کسی بھی قسم کا ارتباط قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دراصل سننے والے اور کہنے والے کے درمیان ہم آہنگی ہی کی وجہ سے ارتباط برقرار رہتا ہے، اور جس نسبت سے سننے والے کے حواس زیادہ جمع ہوں، وہ کہنے والے کی باتوں کو سمجھنے پر قادر ہوگا۔ تمرکز اور ہم آہنگی کی یہی شرائط روحانی پہلوؤں کے انکشاف اور کلماتِ الٰہی کی وحی کے ذریعے دریافت کے لیے لازمی ہوتی ہیں۔

مکتبِ طریقتِ اویسیً شاہ مقصودی کی تعلیمات کے مطابق انسانی نظام میں الہام قبول کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے۔ انسانی جسم تیرہ برقناطیسی مراکز کا حامل ہے۔ اِن مراکز میں سے اہم ترین مرکز قلب میں ہے۔ اِس ذاتی تعلیمی نظام کی پرورش اور انکشاف حقیقت کی شناخت کے لیے ضروری ہم آہنگی انسان کو مہیّا کرتی ہے۔ "عارف،" دوسرے الفاظ میں "معلّمِ وجود،" تعلیم دیتا ہے کہ 'شناخت' نظم و ضبط،، ترتیب و تادیب، تزکیہً نفس، تمرکز اور عبادت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

عرفان میں 'تمرکز':

عرفان میں قوّتوں کو جمع کرنے کا نام 'تمرکز' ہے اور یہ کلّی طور پر جو کچھ مغرب میں 'میڈیٹیشن' کے عنوان سے پہچانا گیا ہے، اُس سے مختلف ہے۔ 'تمرکز' 'توانائیوں کے ارتکاز' کے معنوں میں ہے۔ 'تمرکز' ہمہ پہلو ہم آہنگی اور توازن کا حصول مہیّا کرتا ہے۔ تمرکز کی مشقوں کے ذریعے سالک کے حسّاسے کی قابلیت تقویت پاتی ہے اور روحانی پہلوؤں کو دریافت کرنے کے لیے ضروری آمادگی حاصل کرتی ہے۔ تمرکز کی بہت دقیق مشقیں باطنی قوّتوں میں توازن کا باعث ہیں، اور جسم کی توانائیوں کے میدانوں کو تقویت پہنچاتی ہیں، اور دل و دماغ کے ساتھ صحیح رابطہ فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں راہِ حق کے سالک کو حقیقت کی دریافت کے لیے ضروری ہم آہنگی اور حسّاسے حاصل ہوتے ہیں۔ دل و دماغ کے مکمّل اتحاد میں ایک خاص ہمہ پہلو یگانگت پیدا ہوجاتی ہے جو اُس کےلامحدود ملکوتی پہلو کو کشف کرنے کی قدرت حاصل کرتی ہے، اور وہ سارے عالم کی توانائیوں کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے۔

"اپنی توانائیوں کو یک جا کر اور اُنھیں اپنے قلب میں موجود سرچشمۂ حیاتی پر مرتکز کر تا کہ تیری دریافتیں لازوال ہو جائیں، اور تیرا وجود اعتدال سے زندگی بسر کرے، اور ابدیت کو پہچان لے۔"2



1. Hazrat Nader ANGHA, Theory "I", The inner Dimension of Leadership, Riverside, CA: M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, 2002, pp. 130-133
2. Hazrat Shah Maghsoud Sadegh Angha, Message from the Soul, Verdugo City, CA: M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, 1986, p. 5