موجودہ زمانے میں مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی® براہِ راست آپ کی ہدایت اور سرپرستی میں ہے اور ایک غیرمنفعت بخش عالمی ادارے کی صورت میں دنیا کے پانچ برِّاعظموں میں قائم بہت سارے مراکز پر پانچ لاکھ سے زیادہ سچّے طلبہ کو مسلسل علم و دانش، عشق و محبّت، صلح و صفا اور سکون و بقا کی تربیت فراہم کر رہا ہے۔
ہمارے مراکز کی ویب سائٹ کے دورے کے لیے یہاں کِلِک کیجیے۔http://www.suficenters.org
خانقاہ، مکتب و مدرسۂ عرفان
خانقاہ یا خانۂ گاہ یعنی خانۂ وقت، حال و حضور۔
گاہ، وہ لحظۂ واقعی ہے کہ انسان کو ظاہرًا خواہ باطنًا دائم مراقبہ و حضور اور اُس کی حفاظت میں رہنا چاہیے، تا کہ ہر " آن" اِس حیاتِ حقیقی کے باعث، جہانِ مادّی کی بے مصرف آوارگیوں میں مصروف نہ رہے اور آخرِ کار علم ، عشق اور ہستی کے آسمان کے دروازے راہ کے حقیقی سالک پر کھل جائیں۔
راہ چلنے والا سالک ہمیشہ اپنی جمعیّت میں ، نہ کہ لوگوں کے تفرقوں میں، سیر کرتا ہے، تا کہ ایک لحظے کے لیے بھی ہستی سے جدا نہ رہے۔
کسی بھی علم کے حصول کے لیے معلّم اور اُس درس کے مدرسے کا رُخ کرنا چاہیے۔ مکتب و مدرسۂ عرفان کا نام خانقاہ ہے۔
پرانے وقتوں میں جب کوئی اپنی حقیقت کا متلاشی ہوتا تھا، خانقاہ کا رُخ کرتا تھا۔ اُسے پتا چلتا تھا کہ روزمرّہ زندگی اُس کی اصل چاہت، یعنی انسان کی حقیقت کی جُست جُو اور کشف کی ذمّے دار نہیں۔ وہ معاشرے میں متعارف نام و نسب کو ایک طرف رکھ کر،کمالِ فروتنی و طلب سے خانقاہ کا رُخ کرتا تھا تاکہ حاضر اجتماع کے ساتھ، خاص طور پر ذکر کے ہنگام میں، لمحۂ موجود اور بےزمانی کا تجربہ کرسکے۔
