MTO Shahmaghsoudi ®
مکتبِ عرفانِ اسلامی ®

عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے

عرفان کیا ہے؟مقدّمہ
ہمارے بارے میں
خانقاہ
عرفان:کتابِ وجودِ انسان کی 'الف بے' سیکھنا
دل کی خلوت
تصوّف مذاہب کے درمیان ایک پل
منتخب ترانے
متصوّفانہ حکایت از رومی


تصوّف مذاہب کے درمیان ایک پل

"خدا کی سلطنت میں صرف دل کے رموز کام آتے ہیں۔"
از حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا، پیرِ اویسی

تصوّف مذاہب کے درمیان ایک پل1

مذاہب کا آغاز اُس وقت ہوا جب لوگوں نے فطرت کی طاقت وَر قوّتوں کے آگے سر جھکانا شروع کردیا، اور علامتوں کے طور پر بہت سے بُت تراش لیے، وہ یہ بات فراموش کرچکے تھے کہ علامت کبھی اصل حقیقت نہیں ہوسکتی۔

تب پیمبر نازل کئے گئے تاکہ لوگوں کو سمجھا سکیں کہ یہ طریقہً عبادت درست نہیں۔ اور یہ کہ خدا کا ادراک اور اُس سے ہم رشتگی کیونکر ممکن ہے۔ پیمبروں کے نزول کے ساتھ ہی 'تصوّف' کا بھی آغاز ہو گیا۔ تصوّف بھی دراصل اِنھی اصولوں کی تعلیم ہے کہ اُس اعلٰی اور محبوب ترین ہستی کی آگہی کیونکر حاصل ہو، اور اُس سے کیونکر ہم رشتہ ہوا جائے۔ لوگوں نے تعلیماتِ انبیا پر عمل تو کیا، مگر صرف پیروی کی نیّت سے۔ وہ یہ ہرگز نہ پہچان سکے کہ 'حقیقتِ خدا' کیا ہے۔ لہٰذا اُنھوں نے انبیاے کرام کی دی ہوئی ہدایات کو اپنی اپنی پسند و ناپسند کے مطابق ڈھال لیا، اور اپنے ذہنوں میں کچھ اَور نئے بت بنا لیے۔

پیمبروں کے بعد مزید باعلم اور روحانی ہستیاں تشریف لائیں۔ اُنھوں نے بھی کوششیں کیں کہ اُن تمام طریقوں کی وضاحت کریں جو انبیاے کرام نے ایک وجودِ مطلق کی حقیقت تک رسائی کے لیے سمجھائے تھے، مگر چوں کہ مختلف انسانی معاشروں میں مختلف طریقے رائج تھے، لہٰذا اِن وضاحتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ الگ الگ مذہبی گروہ وجود میں آتے چلے گئے، اور معاشرے میں مختلف مذاہب کے حوالے سے بات کی جانے لگی۔ وقت کے ساتہ ساتہ اِن گروہوں میں باہم تصادم شروع ہو گیا۔ یہ تصادم ہر چند کہ مذہب کے نام پر تھا، مگر اِس کا مقصد اقتدار اور دولت کا حصول تھا۔

بہ ہرحال، 'مذہب' صدیوں سے رائج اِن رسوم و رواج کی ادائیگی کا نام ہرگز نہیں ہے۔ مذہب کی حقیقت 'ذاتِ الٰہی' کی معرفت میں پنہاں ہے، مگر ذاتِ الٰہی کو ہم اپنے اِس محدود ذہن اور ظاہری محسوسات کی مدد سے نہیں سمجھ سکتے، نہ ہی دوسروں کے الفاظ پڑھنے، یا سن لینے سے سمجھ سکتے ہیں۔

مذہب کی دریافت دراصل اپنے انفرادی وجود کے اُس باطنی رخ کی دریافت ہے، جہاں خود ذاتِ انسانی میں خدائی صفات نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ یہی وہ امر ہے جس کا ادراک انبیاے کرام کو ہوا تھا۔ اِس دریافت کے حصول کے لیے عبادت و ریاضت، تزکیہً نفس اور درست تربیت کی ضرورت ہے، تصوّف جس کا اہتمام کرتا ہے۔

اِس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ذات کے اندر 'میں' کی دریافت کی جائے۔ اپنے انفرادی وجود میں اِس 'میں' یعنی اپنی 'ہستی' تک رسائی کے لیے ہمیں علم و آگہی کی ضرورت ہے۔ اِس علم و آگہی کا حصول عام سماجی ذرائع سے ممکن نہیں، انسان کو اِن محدود دائروں سے بلند تر ہو کر ایسی سمتوں میں کاوشیں کرنی پڑتی ہیں، جہاں سے اصل آگہی کا حصول ممکن ہو۔ تصوّف کی بنیاد اپنے اندر موجود اِسی 'میں' کی آگہی ہے، جو انبیاے کرام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہر فرد کو یہ ہدایت کرتی ہے کہ وہ سچّائی کے اُس بیج کو، جو پہلے سے ہر انسانی دل میں موجود ہوتا ہے، پروان چڑھائے۔

اِس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تصوّف ایک پُل ہے جو تمام مذاہب کو آپس میں جوڑ دیتا ہے، کیوں یہ تمام انبیاے کرام کو مانتا ہے۔

ذاتی تجربے، معرفتِ الٰہی، تزکیہً نفس اور طریقہً تربیت پر یہ اصرار اِس ہدف کی سمت طالبانِ علم کی مدد کرتا ہے۔ یوں تصوّف ہمارے ذاتی وجود کے حوالے سے بھی اور آفاقی طور پر بھی تمام مذاہب کو آپس میں ملا دیتا ہے

لہٰذا وہ تمام تفرقے اور اختلافات جو مختلف مذاہب کے عقائد اور رسوم و رواج کے طرزِِِ ادائیگی کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، بالکل بے معنی ہیں۔



1. Hazrat Salaheddin Ali Nader Shah ANGHA, Sufism, A Bridge Between Religions, M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Riverside, CA, USA, 2002, pp. 51-53.