اسلام کے مقدّس پیام اور سنّتِ رسولِ اکرم حضرت محمّد(ص) کی حرمت مکتبِ طریقتِ اویسی کے ممتاز عرفا کے بلا انقطاع سلسلے کے طریقے سے آج تک محفوظ رہی ہے اور اِن عالی قدر عرفا نے، رائج الوقت غلط تعلیمات کے علی الرغم، اپنی تعلیمات، کتب اور شاگردوں کے ذریعے اسلام کی واقعیت اور اُس کے حقیقی پیام کو مسلسل رواج دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگوں کی قربانیوں اور بے لوث خدمات کے بغیر اسلام کی واقعیت ہمارے دَور میں پھل پھول نہ سکتی تھی۔
مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی، مکتبِ عرفانِ اسلامی کی وجہِ تسمیہ حضرت اویسِ قرنی کا نام ہے۔ حضرت اویسِ قرنی کی شناختِ باطنی کی روش کو آں حضرت (ص) کی تائید حاصل رہی ہے۔ علمِ الٰہی حضرت اویس کے زمانے سے تا حال ، مکتبِ طریقتِ اویسی کے پیرانِ عظّام کے بلا انقطاع سلسلے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آیا ہے اور موجودہ دَور میں حضرت مولانا صلاح الدّین علی نادر شاہ عنقا ، موجودہ اُستادِ مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی تک پہنچا ہے۔
۱۴۰۰/ سال سے زیادہ عرصے سے مکتبِ طریقتِ اویسی کے استاد اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے آئے ہیں کہ تقلید نہ کریں ، بل کہ خود میں پوشیدہ صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے شناخت حاصل کریں، آگے بڑھیں اور اپنی زندگی کی باگ اپنے ہاتھ میں تھام لیں۔ خودشناسی اور شناختِ ہستی کی ضرورت ایک فطری امر ہے اور تمام افراد پر لاگو ہوتی ہے ، فقط اُن لوگوں کے علاوہ ، جنھوں نے اپنی واقعیت کی شناخت کو اپنے اہداف و اعمال میں سرِ فہرست قرار دیا ہے اور جو کشفِ حقیقت کے حصول تک جُست جُو جاری رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اہلِ تصوّف یا اہلِ سِرّ میں شمار ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں، اہلِ تصوّف سِرِّ ہستی کے کشف اور ناشناختگیوں کی شناخت کی جُست جُو میں رہتے ہیں ۔ قابلِ توجّہ نکتہ یہ ہے کہ اُن لوگوں کے لیے ،جنھیں اپنے وجود کی واقعیت کا تجربہ نہیں ہوا، یہ واقعیت سِرّ اور ناشناختہ امر کی صورت میں سامنے آتی ہے، لیکن اُن کے لیے، جنھیں اپنے وجود کی واقعیت کا کشف و تجربہ ہو چکا ہے، یہ مسئلہ روشن اور واقعی ہے۔ انسان میں سِرِّ مکنوں کا تجربہ، بہ الفاظِ دیگر ، اہلِ تصوّف کے تجربوں کا تعلّق عمومًا نجات، آزادی، وجد، اطمینانِ قلب ، محبّت، علم ، لذّتِ یگانگی اور عشق سے ہے۔