MTO Shahmaghsoudi ®
مکتبِ عرفانِ اسلامی ®

عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے

مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کی تاریخ
حضرت جلال الدّین علی
حضرت میرقطب الدّین
حضرت شاہ مقصود
موجودہ اُستادِ عرفان


حضرت شاہ مقصود صادق عنقا

حضرت مولانا صلاح الدّین علی نادر شاہِ عنقا، فرزندِ روحانی و جسمانیِ حضرتِ شاہ مقصود نے خصوصی و پائیدار احترام کے ساتھ اس مکتب کے اساتذہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے والد کے بارے میں کچھ یوں فرمایا ہے:
"اُن کی تعلیمات تصوّف کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہیں ۔ حقیقت اسلام کو دنیا بھر میں ظاہر ہونا چاہیے۔"

حضرت شاہ مقصود صادق نے پندرھويں بھمن 1294ہجری شمسی/ چوتھی فروری 1916عيسوی کو تہران میں آنکھیں کھولیں۔ اپنے بچپن ہی کے دَور سے اپنے والد اور دادا کی، کہ ہر دو اساتذۂ عالی قدرِ مکتبِ عرفانِ اسلامی ہیں،تعلیمات کی بدولت، راہِ معرفت دریافت کی اور تیس سال تک ان اساتذۂ کی توجہات اور تعلیمات کے تحت عاشقانہ خود سے خود تک کی منزل طے کی اور مشیّت ازلی سے اکتّیس شہریور 1341 ہجری شمسی، بمطابق بائیس ستمبر 1962عيسوی کو اپنے رفیع الشّان والد کے ہاتوں پیرِ مکتبِ طريقتِ اويسی کی حیثیت سے اجازتِ ارشاد پائی۔

حضرت شاہ مقصود عرفان اور اِسی طرح علوم کے مختلف ميدانوں کا کامل احاطہ کرتے ہوۓ اپنے والد کی مسند کے جانشيں ہوۓاور مکتب عرفان کے دروازے دُنيابھرکے تمام متلاشيوں کے ليے وا کرديے۔
آپ نے تعليماتِ تصوّف کو دُنيابھر کے طالبانِ تصوّف کے ليے قابلِ حصول بنانے ميں اَن تھک کوششيں کيں، يہی وجہ ہے کہ اِس مکتب کو مکتبِ طريقتِ اويسئ شاہ مقصودی کہا جاتا ہے۔

حضرت شاہ مقصود نے۱۳/ شہریور ۱۳۴۹ ہجری شمسی ، بمطابق چوتھی ستمبر ۱۹۷۰عيسوی کو رسماً حضرت پیر معظّم مولانا صلاح الدّین علی نادر شاہِ عنقاکو بیالیسویں قطبِ طریقتِ اویسی کے عنوان سے خرقہ پہنایا اور اس طرح اپنی جانشینی میں منتخب کیا۔

Hazrat Shah Maghsoud

پروفیسر عنقا نے سلسلہ ہاےطب، فلسفہ، ادبیات، ریاضی، حیاتی طبیعیات، علم الاعضا ، علمِ توالد و تناسل، حياتی کيميا و ، حياتی توانائیاں، توانائی کی شعاعی کاری گری اورکوانتوم، کوانتوم برقیاتی ڈائنامکس، نظريۂ اضافيت، فلکيات، ذرّاتی طبيعيات، جوہری طبيعيات کے علاوہ سرّی علوم میں دادِ تحقیق دی۔ اِن تحقیقات و تخلیقات کا ماحصل وہ بے نظیر تعلیمات اور بیش قدر آثار ہیں جو بشریّت کے راہِ علمی کے چراغِ پُر فروغ ہو چکے ہیں۔

اُنہوں نے اپنی بھر پور زندگی میں نثر و نظم پر مشتمل ڈیڑھ سو سے زیادہ نگارشات چھوڑی ہیں ۔آپ کی بہت سی تصانيف،نیز جو مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، درجِ ذيل ہیں:
آوازِ خدايان، اصولِ فقر و تصوّف، الرّسائل (تطہیر و تنويرِ قلوب، مقاصد الارشاد، سراج الہدٰی، الصّلاۃ)، اوزان و میزان، پديدہ ہای فکر، پيامِ دل، تئوری ذرّہ ، حماسہ حیات ، چنتہ، زوايای مخفی حیاتی ، سَحَر، سرّالحجر، طبِّ سنّتیِ ایران، غزليات، مزاميرِحق گلزارِ اُميد، مثنوی سيرالسّائروطيرالنّادر، مثنوی شاہد ومشہود، نيروان۔

1976عيسوی میں ایک جاپانی ماہرِ حیاتیات پروفیسر عنقا سے ایک انٹرویو کے لیے پہنچا، ملاقات کے بعد اُس نے سوالات و جوابات کو کتاب "سحر" کی صورت میں شائع کیا۔ یہ جاودانہ کتاب نہ صرف پروفیسر عنقا کے افکار و نظریات کو واضح کرتی ہے ، بل کہ مكتب معرفت کی بیش بہا تعلیمات میں یہ ایک گراںقدر اضافہ بھی ہے۔ اِس انٹرویو میں پروفیسر عنقا نے جو نظریہ پیش کیا ہے وہ بعد میں اُن کے لائق فرزند کی فکر میں بنیادی عنصر کے طور پر شامل رہا اور قیامِ امن کے لیے کتاب "صلح" کی اشاعت کا سبب بنا۔
"اصول جو محدودیت کے لیے لائقِ اعتبار ہیں وہ انکشافِ لا محدودیت کے لیے مناسب نہیں"

عرفان "جیسا کہ انہوں نے تعلیم فرمایا، علم و ہنر کی طبیعیاتی دُنیا میں ما بعدالطبیعیاتی اصولوں سے کام لینےسے عبارت ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال وہ دقیق محاسبات ہو سکتے ہیں جو حضرتِ پیرِ معظّم نے اپنے محبوب والد کی یاد میں شہر نوواٹو ، ریاست کیلیفورنیا میں واقع یادگاری عمارت میں ڈیزائن کیے جو اُن کی براہِ راست نگرانی میں تعمیر ہوا ہے۔ اس پر شکوہ عمارت کی محاسبات میںعلم الاعدادا ور حروف ابجد (علم الجفر) کی مطابقت سے اُن کے والدِ بزرگوار حضرت شاہ مقصود کا نام حاصل ہوتا ہے۔

اس یادگاری عمارت کی اندرونی چھت کا بلند ترین حصہ اُس اوج کی نشان دہی کرتا ہے جو خداوند کے ساتھ شخص کی یک جائی کا مظہر ہے اور اِس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کمالِ خلوص کے ذریعے خداوند سے کعبۂ دل میں ملاقات کی جا سکتی ،ہے۔

یادگاری عمارت کے بے نظیر ڈیزائن کے علاوہ رنگین گچ بری مع آئینہ کاری اور تخطّط شدہ کاشی کاری طلائی ملمع کاری کے ساتھ ساتھ سیاہ سنگِ مرمر کا فرش تعجب خیز ہے ،اور آج یہ عمارت اُن استاد عرفان کے وجودِگرانمایہ و عالیقدر کی جاوِدانہ یادگار ہے جنھوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی تہران کے قریب واقع اپنے رصد خانے میں لا محدود جہان کےبارے میں تحقیق ودریافت کے لیے انتہائی وقیع کاوشیں کیں اور جہل بشريّت پر سے بہت سے پردے اٹھائے۔

اکتالیسویں پيرِ طريقتِ اويسی حضرت شاہ مقصود صادقِ عنقا کی رحلت بروزِ 26 / آبان 1359 ہجری شمسی بمطابق نویں محرّم 1401 ہجری قمری (شب عاشورا) اور سترھویں نومبر 1980عیسوی کو ہوئی۔یادگاری عمارت حضرت شاہ مقصود (نوویٹو ،یو ایس اے)