![]() | ||||||||||||
![]() مکتبِ عرفانِ اسلامی ® عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے
اِس غزل کا آخری شعر مولانا جلال الدّین رومی¹کے دیوانِ كبیر کی ایک غزل کا استقبال کر رہا ہے اور مولانا کی سحر بیانی کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ صدیوں بعد آنے والے حضرت پیر کے ظہور کی خوش خبری دے رہے ہیں :
اُس باغ وبہارر وگلــبنِ رعنا کی مہک ہے یہ 1329 ہجری خورشیدی کےاواخر مطابق 1950 عیسوی میں محقّقِ محترم جامعۃ الازہر، مصر کے سیّد محمّد ابوالمجد، تہران میں حضرتِ شاہمقصود سے ملاقات کے موقع پر ان کے فرزندحضرت صلاحالدّین علی نادر عنقا کے كمال و جمال سے متأ ثّر ہو کر کچھ یوں تعریف کرتے ہیں:
حضرت پیر کی والدہ خانم ماہ طلعت اعتماد مقدّم اپنےفرزند سے متعلّق اپنی كتاب" از محمّد تا محمّد" میں ، جو طریقۂ اویسی میں اقطاب کے غیر منقطع سلسلے کو بیان کرتی ہے، یوں لکھا ہے: اپنے زمانۂ نام زدگی ہی سے، اپنے عزیز والد کے وسیلے سے حضرت پیر نے اپنی اُن ذمّے داریوں کو پورا کرنا شروع کر دیا، جو اُنھیں تفویض ہوئی تھیں۔ اِن میں سے ایک ذمّے داری ایک شان دار مركزِ عرفان کی تشکیل و نگرانی تھی جو تہران کے قریب واقع کرج میں صوفیآبادکے نام سے معروف ہے۔ داکٹر رونالڈگریزل ³ نے1983 عیسوی میں تہران کا سفر کیا تھا۔ اُنھوں نے خانقاہِ صوفیآباد، کرج کی زیارت کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اِس پُر شکوہ مرکز کی بے پناہ تعریف کی ہے اور (Sufism) نامی اپنی کتاب میں ایک باب"کرج میں مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی" شامل کیا ہے۔ 1979 عیسوی میں جب وہ اپنے والد کے ساتھ امریکا چلے گئے، اُنھوں نے مقدّس تعلیمات پھیلانے کی اپنے والد کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ اِس طرح طریقِ عرفانی کے وسیع تر علاقے میں پھیلاو کے لیے طریقِ معرفت کی توسیع شمالی امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور ایشیابھر میں شروع کی۔تھوڑے ہی عرصے میں، امریکا کی متعدّد ریاستوں میں مكتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کے اجلاس حضرت پیرِ معظّم کی نگرانی میں تشکیل پائے اور وسعت پذیر ہوئے۔ یہ عظیم پھیلاو اِس حقیقت کو ظاہر کرتا ہےکہ حضرت پیر نے حقیقتِ اسلام کو عالم گیر کرنے کی اپنے والد کی سنگین ذمّے داری بے حد محبت سے قبول کرکے خود کو ساری بشریّت کے لیے اعلامِ حقیقت و واقعیتِ دین کی خاطر وقف کردیا اور افراد کی، قطعِ نظر اُن کے دبستانِ فکر، مسلک، مذہب اور اُٹھان کے رہنمائی ،تعلیم و تربیت اور مدد کے لیے کوشاں رہے۔ بالآخر یہ عدیم النّظیر تحریک شمالی امریکا،یورپ، آسٹریلیا،شمالی افریقا اور ایشیا بھر میں حضرت پیر کی نگرانی میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ وطالبات پر مشتمل مكتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی (دانش گاہِ عرفانِ اسلامی) کی خانقاہوں کی تاسیس پر منتج ہوئی۔ یہ پھیلاو حضرت شاہ مقصود کی شعاعِ دیدۂ ہستی نگر کا پرتو ہے ۔ اُن کی تیس برس قبل کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، جیسا کہ اُنھوں نے اپنی كتاب "حماسۂ حیات "میں متعدّد پیش گوئیوں کےضمن میں فرمایا ہے:
حضرت پیر کا علم و دانش فقط امورِ باطنی و علومِ مخفی تک محدود نہیں ، بلکہ اُن کا احاطہ دیگر علوم مثلًاطبیعیات، ریاضیات، فلکیات، خلائی طبیعیات و كوانتوم مکینکس ، حیاتی طبیعیات ، فلسفہ، شاعری اور تعمیرات پر تعجب خیز ہے ۔حضرت پیر معظّم دُنیا بھر کے حقیقی جامعات میں مشہور ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ موجودہ علم میں اُن کی صاحب نظری دانش مندوں کے اُن سے رجوع کا باعث ہے اور مختلف علمی میدانوں میں حضرت کی ہدایات اور بے حد دقیق اشارات مسلسل اُن کے لا ینحل مسائل اور سوالات کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے دُنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور علمی و تربیتی اداروں میں اپنے بے شمار خطبات اور ارشادات کے اجتماعات میں اسلام کا حقیقی چہرہ ہر طبقۂ خیال کے لیے پیش کیا ہے۔ مختلف زبانوں کی نظم و نثر میں حضرت کی 50 سے زائد قلمی کاوشیں شائع ہو چکی ہیں ۔ اُن سب میں "صلح"، " رازنامہ"،" مقترب "اور" مثنویِ روایح" کے نام لیے جا سکتے ہیں، نیز درجِ ذیل کتابیں انگریزی میں لکھی گئی ہیں: Whispering Moments, The Fragrance of Sufism, Sufism, Sufism and Peace, Sufism and Wisdom, Sufism and Knowledge, Sufism and Islam, Theory "I", Sufism the Reality of Religion, Sufism the Bridge between Religions, Dahm. اِن تمام تحقیقات میں، جو حال ہی میں مولانا صلاح الدّين علی نادر عنقا نے انجام دی ہیں، ايک مشین کی اختراع شامل ہے جو اشعاعِ ميون پيدا کرتی ہيں۔ ان اشعاع سے طریقِ علاج 'ميون تھيراپی' کہلاتا ہے ۔ اِسی طرح اعصابی سلسلے کے علاج اور اِس میں مختلف ترميمات کے ليے بھی اُنھوں نے ايک مشین بنائی ہے ۔
1. Mowlânâ Jalâleddin Balkhi Rûmi, Divân-e Shams-e Tabrizi, Javdidan Publications, Tehran, 1360 [1981], p. 241. 2. Reference is made to Joseph, the favorite son of Jacob who was thrown in a well by his envious brothers and later sold as a slave to the Egyptians. Known for his unequalled beauty, he became the symbol of beauty in Sufi literature. 3. Ronald Grisell, Sufism, Ross Books, Berkeley, CA, 1983, pp.85-97. © 2008 مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی ® |
||||||||||||