MTO Shahmaghsoudi ®
مکتبِ عرفانِ اسلامی ®

عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے

مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کی تاریخ
حضرت جلال الدّین علی
حضرت میرقطب الدّین
حضرت شاہ مقصود
موجودہ اُستادِ عرفان


مولانا المعظّم حضرت صلاح الدّین علی نادرعنقا
موجودہ اُستادِ عرفان

مكتبِ عرفانِ اسلامی میں علمِ باطنی، جو پیغمبرِ مكرّم اسلام (ص) کی جانب سےحضرت امیرالمومنین علی (ع) اور اِسی طرح اویس قرنی اور سلمان فارسی کو منتقل ہوا، اویسی­مشرب کے پیران و عرفاے عالی مقام کے غیر منقطع سلسلے سے زمانۂ ٔحال تک پہنچتا ہے۔اس راہ میں پیر ہی ہے جو اراده و اشارتِ خداوندی سے اپنے شاگرد کو اُس کی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق اُس کی ذاتی استعداد کی شگفتگی اور امانتِ الٰہی کی قبولیت تک تعلیم و تربیت فرماتا ہے۔

حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقامولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا، مكتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کے بیالیسویں پیر ہیں۔ یہ طریقہ پیغمبرِ عظیم الشّأنِ اسلام حضرت محمّد (ص) کے زمانے تک، یعنی 1400 سال سے زیادہ قدیم ہے۔

حضرت پیر معظّم نے اتوار کے دن، آٹھویں مہر ماه 1324ہجری خورشیدی، مطابق تیسویں ستمبر 1945 عیسوی کو، تہران میں ولادت پائی۔ حضرت پیر کے سفرِ روحانی کا آغاز طفولیت ہی میں اُس وقت ہو گیا تھا جب عالمِ عرفان کی مخصوص علامات اُن میں ظاہر ہوئیں۔ وہ گیارہ برس تک اپنے دادا مكتبِ طریقتِ اویسی کے چالیسویں پیر حضرت میرقطب­الدّین محمّد عنقا کے زیرِ تربیت رہے، اور اُس کے بعد اپنے والدِ بزرگ وار مولانا المعظّم حضرت شاہ مقصود کی براہِ راست نگرانی میں رہے۔

حضرت شاہ مقصود حضرت پیر کے عشق ، اعتماد اور احترام سے اِس درجے سرشار تھے کہ اُنھوں نے موزوں لطافت سے اپنی کلّیات میں مسلسل رُوے سخن اُنھی کی طرف رکھا ہے ، اور خصوصاً ساری كتابِ غزلیات میں اپنے فرزند کے عشق میں تغزُّل ان کے پیشِ نظر ہے۔ اِس کتاب میں وہ کچھ یوں فصاحت سے غزل سرا ہوئے ہیں:

یا تو فتنہ ہے، یا چشمِ سیاہ ہے، یا دلوں کی آفت ہے یہ
یا تیری نگاہِ مست ہے، یا نرگسِ شہلا ہے یہ
خرمنِ گل حسنِ دلبر، یا فروغِ آفتاب
سروِ موزوں، یا صنوبر، یا قدِ بالا ہے یہ
یاسمن ہے یا طاق، یا تن، یاقمر، یا سیمِ ناب
آبِ کوثر، یا گہر، یا محشرِ کبرا ہے یہ
صبحِ روشن، یا بیاضِ گردن ہے یہ، یا بلور
یا کہ نورِ طورِ سینا، یا یدِ بیضا ہے یہ
دانۂ خال ہے یہ، یا مجمرِ آتش پر سپند
دامِ زلفِ پُر شکن، یا طرّۂ عذرا ہے یہ
سبو بھی، بادہ بھی، خُم بھی، قدح بھی،جامِ جم بہی
یا اُس کا شرابِ لعل، یا نشّۂ صہبا ہے یہ
شیرے کی صراحی ہے یہ، یا اُس کا دہان، یا آبِ حیات
دُرِّ دنداں، یا صدف، یا نادر موتی ہیں یہ
ماہِ نو چمک رہا ہے یا ہلال میں تیغِ دو ابرو
مژگاں کا مجمع ہے، یا سیہ مستی کہ بے پروا ہے یہ
سینہ ہے چاکِ گریباں سے روشن یا سحر
وہ کمر، یا خواب میں معنیٔ پیچیدہ ہے یہ
ہر شب سوزِ جگر سے نافے کی طرح دل میں خون جمع کرتا ہوں
چشمِ تر ، یا بسترِ سیلاب ، یا سمندر ہے یہ
روحِ مولانا سحرِ بیاں میں ہے کہ اُنھوں نے کہا:
کوہِ قاف نادر ہے اور نادرِ عنقا ہے یہ
 
 
 
 


اِس غزل کا آخری شعر مولانا جلال الدّین رومی¹کے دیوانِ كبیر کی ایک غزل کا استقبال کر رہا ہے اور مولانا کی سحر بیانی کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ صدیوں بعد آنے والے حضرت پیر کے ظہور کی خوش خبری دے رہے ہیں :

اُس باغ وبہارر وگلــبنِ رعنا کی مہک ہے یہ
اُس یارِ جہان آراے جاں افزا کی مہک ہے یہ
یہ کیسی مہک ہے جس سے اجزاے عالم مست ہوگئے
زمین سے نہیں، بل کہ عالمِ بالاسے ہے یہ
ستارے اوپر سےکہہ رہے ہیں کہ یہ خورشید کیا ہے
سمندر میں مچھلیاں کہہ رہی ہیں، کیا شور ہےیہ
اُس کا آفتاب چہروں کو آفتــــاب بنا رہا ہے
چاندی بکھیرنے والے چاند کی جان کا رشک، خوب صورت چہرے والا ہے یہ
چند سال بعد حُسنِ یوسفی ²واپـــس پہنچا
کیا حسن وخوبی ہے یہ، حور کے لیے باعثِ حیرت ہے یہ
یہ ساقی عجب خضر ہے کہ آبِ حیات سے واپس چلا گیا
كوه قـــافِ نادر ہےاور نادرِ عنــــقاہے یہ
شعلہ" اِنّافتحنا " نےمشــرق و مغرب کو گھیر لیا,
آنکھوں کی ٹھنڈک اور مولانا کی جان کی حیات ہے یہ
اِسے کیوں ڈھانپتے ہو، مت ڈھانپو، صاف اور کھل کر کہو
اللہ کی مدد کا پرچم اور ہمارے شـــاہ کی سپاہ ہے یہ
یہ ہر دو عالـــم کی امان ، اور ہر دونوں دُنیاؤں کی پناہ ہے
روز سخت کا دست گیـــر اور فرد کا ضامن ہے یہ
آسمان کو ایک اور پُرآشوب و شور  آسمان نے سمجھایا
یہ کیسا عشق ہے خداوندا، عجب سودا ہے یہ
اے خوش آواز، كہ تیری آواز ہر دل تک پہنچتی ہے
اِس کی شرح كر، اِس سمندر کے موتی ہیں یہ

1329 ہجری خورشیدی کےاواخر مطابق 1950 عیسوی میں محقّقِ محترم جامعۃ الازہر، مصر کے سیّد محمّد ابوالمجد، تہران میں حضرتِ شاہ­مقصود سے ملاقات کے موقع پر ان کے فرزندحضرت صلاح­الدّین علی نادر عنقا کے كمال و جمال سے متأ ثّر ہو کر کچھ یوں تعریف کرتے ہیں:

اے عنقا، تیرا متبرک حریم پھولوں کی جلوہ گاہ ہے، اور وہاں نادر بلند شاخچے کا پھول

خاندانِ رسولِ خدا (ص) کا مورث ، اور بے کراں ازلی نور کی درازی ،

کوئی غیبی آواز میرے خانۂ دل میں ایک زمزمۂ جاودانہ رکھتی ہے کہ: واقعی نادر، نادر ہے

حضرت شاہ مقصود  اور اُن کے صاحب زادے نادر عنقا

حضرت پیر کی والدہ خانم ماہ طلعت اعتماد مقدّم اپنےفرزند سے متعلّق اپنی كتاب" از محمّد تا محمّد" میں ، جو طریقۂ اویسی میں اقطاب کے غیر منقطع سلسلے کو بیان کرتی ہے، یوں لکھا ہے:
 "تیرہ سو اُنتالیس ہجری شمسی، مطابق چوتھی ستمبر 1970 عیسوی کو حضرت شاہ مقصود کی موجودگی میں ایک تعلیمی مجلس میں، جس میں مریدوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اُنھون نے اپنے والد کے دستِ مبارک سے خرقے کا تبرک پایا۔ حضرت شاہ مقصود نے اپنی تقریر کے دوران خرقہ اُنھیں تفویض کیا"۔

اپنے زمانۂ نام زدگی ہی سے، اپنے عزیز والد کے وسیلے سے حضرت پیر نے اپنی اُن ذمّے داریوں کو پورا کرنا شروع کر دیا، جو اُنھیں تفویض ہوئی تھیں۔ اِن میں سے ایک ذمّے داری ایک شان دار مركزِ عرفان کی تشکیل و نگرانی تھی جو تہران کے قریب واقع کرج میں صوفی­آبادکے نام سے معروف ہے۔ داکٹر رونالڈگریزل ³ نے1983 عیسوی میں تہران کا سفر کیا تھا۔ اُنھوں نے خانقاہِ صوفی­آباد، کرج کی زیارت کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اِس پُر شکوہ مرکز کی بے پناہ تعریف کی ہے اور (Sufism) نامی اپنی کتاب میں ایک باب"کرج میں مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی" شامل کیا ہے۔

1979 عیسوی میں جب وہ اپنے والد کے ساتھ امریکا چلے گئے، اُنھوں نے مقدّس تعلیمات پھیلانے کی اپنے والد کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ اِس طرح طریقِ عرفانی کے وسیع تر علاقے میں پھیلاو کے لیے طریقِ معرفت کی توسیع شمالی امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور ایشیابھر میں شروع کی۔تھوڑے ہی عرصے میں، امریکا کی متعدّد ریاستوں میں مكتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کے اجلاس حضرت پیرِ معظّم کی نگرانی میں تشکیل پائے اور وسعت پذیر ہوئے۔ یہ عظیم پھیلاو اِس حقیقت کو ظاہر کرتا ہےکہ حضرت پیر نے حقیقتِ اسلام کو عالم گیر کرنے کی اپنے والد کی سنگین ذمّے داری بے حد محبت سے قبول کرکے خود کو ساری بشریّت کے لیے اعلامِ حقیقت و واقعیتِ دین کی خاطر وقف کردیا اور افراد کی، قطعِ نظر اُن کے دبستانِ فکر، مسلک، مذہب اور اُٹھان کے رہنمائی ،تعلیم و تربیت اور مدد کے لیے کوشاں رہے۔

بالآخر یہ عدیم النّظیر تحریک شمالی امریکا،یورپ، آسٹریلیا،شمالی افریقا اور ایشیا بھر میں حضرت پیر کی نگرانی میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ وطالبات پر مشتمل مكتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی (دانش گاہِ عرفانِ اسلامی) کی خانقاہوں کی تاسیس پر منتج ہوئی۔ یہ پھیلاو حضرت شاہ مقصود کی شعاعِ دیدۂ ہستی نگر کا پرتو ہے ۔ اُن کی تیس برس قبل کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، جیسا کہ اُنھوں نے اپنی كتاب "حماسۂ حیات "میں متعدّد پیش گوئیوں کےضمن میں فرمایا ہے:

دید کا منطقہ افزوں ہوگا
مظہرِ جہل دگرگوں ہوگا

بعدِ یک قرنِ دگر از تقدیر
اصلِ اسلام ہوگا عالم گیر

حضرت پیر کا علم و دانش فقط امورِ باطنی و علومِ مخفی تک محدود نہیں ، بلکہ اُن کا احاطہ دیگر علوم مثلًاطبیعیات، ریاضیات، فلکیات، خلائی طبیعیات و كوانتوم مکینکس ، حیاتی طبیعیات ، فلسفہ، شاعری اور تعمیرات پر تعجب خیز ہے ۔حضرت پیر معظّم دُنیا بھر کے حقیقی جامعات میں مشہور ہیں اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ موجودہ علم میں اُن کی صاحب نظری دانش مندوں کے اُن سے رجوع کا باعث ہے اور مختلف علمی میدانوں میں حضرت کی ہدایات اور بے حد دقیق اشارات مسلسل اُن کے لا ینحل مسائل اور سوالات کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے دُنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور علمی و تربیتی اداروں میں اپنے بے شمار خطبات اور ارشادات کے اجتماعات میں اسلام کا حقیقی چہرہ ہر طبقۂ خیال کے لیے پیش کیا ہے۔

مختلف زبانوں کی نظم و نثر میں حضرت کی 50 سے زائد قلمی کاوشیں شائع ہو چکی ہیں ۔ اُن سب میں "صلح"، " رازنامہ"،" مقترب "اور" مثنویِ روایح" کے نام لیے جا سکتے ہیں، نیز درجِ ذیل کتابیں انگریزی میں لکھی گئی ہیں: Whispering Moments, The Fragrance of Sufism, Sufism, Sufism and Peace, Sufism and Wisdom, Sufism and Knowledge, Sufism and Islam, Theory "I", Sufism the Reality of Religion, Sufism the Bridge between Religions, Dahm.

اِن تمام تحقیقات میں، جو حال ہی میں مولانا صلاح الدّين علی نادر عنقا نے انجام دی ہیں، ايک مشین کی اختراع شامل ہے جو اشعاعِ ميون پيدا کرتی ہيں۔ ان اشعاع سے طریقِ علاج 'ميون تھيراپی' کہلاتا ہے ۔ اِسی طرح اعصابی سلسلے کے علاج اور اِس میں مختلف ترميمات کے ليے بھی اُنھوں نے ايک مشین بنائی ہے ۔


Islamic Sufism Geneology
Tehran University Publications



1. Mowlânâ Jalâleddin Balkhi Rûmi, Divân-e Shams-e Tabrizi, Javdidan Publications, Tehran, 1360 [1981], p. 241.
2. Reference is made to Joseph, the favorite son of Jacob who was thrown in a well by his envious brothers and later sold as a slave to the Egyptians. Known for his unequalled beauty, he became the symbol of beauty in Sufi literature.
3. Ronald Grisell, Sufism, Ross Books, Berkeley, CA, 1983, pp.85-97.