MTO Shahmaghsoudi ®
مکتبِ عرفانِ اسلامی ®

عرفان | مقالات | تاریخِ مکتب و اقطاب | مراکز | واقعات | ایم ٹی او ادارے

مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کی تاریخ
حضرت جلال الدّین علی
حضرت میرقطب الدّین
حضرت شاہ مقصود
موجودہ اُستادِ عرفان


حضرت میرقطب الدّین

حضرت مير قطب الدّين محمّد عنقا،موجودہ پیر کے دادا مکتبِ طريقتِ اويسی کے چاليسويں اُستاد ہيں۔

آپ بيسويں اُردی بہشت 1266 ہجری شمسی/ دسويں مئی 1887 عيسوی کو تہران ميں پيدا ہوۓ۔ آپ بچپن ہی سے اُنتاليسويں اُستادِ مکتب حضرت جلال الدّين علی مير ابوالفضل عنقا کی توجّہ و تعلیمات کے تحت رہے۔ ہائی اسکول کے بعد اپنی تحصیلات علومِ عالی کے حصول کے لیے جاری رکھيں، آپ کا تبحّر ریاضی، فنِّ خوش نويسی، ادبيات اور فنِّ تحریر ميں قابل توجّہ ہے۔

حضرت مير قطب الدين محمد عنقا آغازِ جوانی ہی سے انسانی قوّتِ تحليق کی پرورش اور علوم ميں مہارت حاصل کرنے ميں بہت زیادہ دل چسپی رکھتے تھے۔ آپ اپنی جُستُ جو کی کیفیات کی اپنی کتاب "از جنین تا جنان" ميں اِس طرح تعریف کرتے ہيں: "... ميں نے جس جگہ صاحبِ مسند پايا، حُسنِ نیّت کے ساتھ اُن کی صحبت ميں بے تابانہ پہنچا، اُن کی گفت گو توجّہ سے سنی، ليکن اِس کے باوجود اُن کے نظریات کی بہ دولت ميں اپنے مقصود نہائی تک نہ پہنچا، بس اِسی قدر سمجھا کہ اہلِ ظاہر کے اعمال و عقائد ظنّ و تقلید پر مبنی ہيں۔"

اپنی تحقیقات کے دوران جب آپ عرفان تک پہنچتے ہيں تو اِس کی يوں تعریف کرتے ہيں: "ميں نے طريقِ تصوّف و عرفان کو اپنے آخری و مخفی مقصود سے نزدیک تر دیکھا اور اِسے تمام طریقوں سے برگزیدہ پايا اور ميں نے جان ليا کہ ان کا مذہب دوسرے مذاہب سے جدا ہے، عاشقوں کا مذہب وملّت خدا ہی ہے، وہ دَم کو غنیمت جانتے اور ماسواےحق کو عدم سمجھتے ہيں، وہ اضافات کو رد کرنے ميں منہمک ہيں اور آفات و مافات سے آزاد ..."

آپ کے فرزند روحانی وجسمانی حضرت شاہ مقصود صادق عنقا پيرِ اويسی فرماتے ہيں: "اگر سيّدنا محمّد ابن ابوالفضل عنقا کا وجود نہ ہوتا تو اِس زمانے ميں حقیقت فقر و معرفت کبھی ظاہر نہ ہوتی۔"

حضرت مير قطب الدين محمّد عنقا نے اکتيسويں شہريور 1341ہجری شمسی/ 22 ستمبر 1962عيسوی کو پچھتّر سال کے عمر میں رحلت فرمائی اور آپ کی آرام گاہ آپ کے والد حضرت جلال الدّین علی ميرابوالفضل عنقا کے پہلو میں ابنِ بابويہ، شہر رے، تہران میں واقع ہے۔

میر قطب الدّين محمّد عنقا کی معروف تصانیف ميں سے چند درجِ ذیل ہیں: ارشاد نامہ، از جنین تا جنان، اصولِ ادیان، تجلّيات، مراقبہ و شہود۔