
حضرت جلال الدّین علی مير ابوالفضل عنقا مکتبِ طريقتِ اويسی کے اُنتاليسويں اُستاد ہیں۔ آپ 1266 ہجری قمری/ 1849 عيسوی ميں قزوين شہر ميں پیدا ہوۓ اوراُنّيس سال تک يہيں کسبِ معارف و دیگر تمام مروّجہ علوم حاصل کرتے رہے۔
تقریبًا 1284 ہجری قمری/ 1867عيسوی ميں تہران تشریف لائے۔ يہاں آپ بےتابانہ اُستادِعارفِ کامل و مکمّل حضرت آقا عبدالقادر جہرمی کی خدمت ميں پہنچے اور اِنھی اُستاد کی ہدایات و تعلیمات کے تحت اُستاد ہونے کے مرتبے تک اپنی تحصیلات مکمّل کیں۔
حضرت جلال الدّین علی نے ہمّتِ دائم و خدمتِ مداوم، ثابت قدمی اور نظم و اطاعت کے ساتھ کمالاتِ نفس کی تکمیل اِس طرح سے کی کہ اپنے زمانے کے تمام سلسلوں کے قطبِ یگانہ قرار پائے۔ آپ نے طریقتِ اویسی میں حضرت آقا عبدالقادر جہرمی سے خرقہ حاصل کرنے کے علاوہ دیگر سلسلہ ہاے طریقت کے اساتذہ، جيسے حضرت شیخ محمد جاسبی، خلیفۂ سلسلۂ معروفیِ نعمت اللٰہی اور اِسی طرح حضرت سيّد حسين موسوی دزفولٰی قطبِ طريقۂ ذہبی سے بھی اجازتِ تعلیم و ارشاد حاصل کی۔
آپ نے اُنتیس جمادی الثانی 1333 ہجری قمری، مطابق 25اسفند ماہ1293 ہجری شمسی (16 مارچ 1915عيسوی) ميں، تہران ميں رحلت فرمائی اور آپ کی آرام گاہ ابنِ بابويہ، شہر رے، تہران ميں ہے۔
حقائقِ تصوّف و علمِ اَسراراور اِسی طرح فلسفے اور مختلف علوم کے بارے ميں آپ کی بیش قدر تصانیف شعرو نثر کی صورت ميں موجود ہیں۔
حضرت جلال الدّین علی ميرابوالفضل عنقا کی تصانیف ميں سے چند درجِ ذیل ہيں:
آدابِ فقر در سلوک-
احادیثِ قدسی -
اشارات الحسينيّہ-
انوارِ قلوبِ سالکين -
حقائق المناقب-
غنچۂ باز در شرحِ گلشنِ راز -