قرآن کریم: ایک جاوداں الٰہی معجزہ
پیغمبروں کے اکثر معجزات حسّی اثرات کی سلطنت میں اور اُنھی کے زمانے پر منحصر تھے اور فقط اُسی عہد کے لوگ اُن کا مشاہدہ کرتے تھے؛ لیکن قرآن کا اعجاز ابدی اور قیامت تک پائیدار اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کا معجزہ عظمتِ معنی اور اُس میں پوشیدہ اَسرار اور اُس کے علم کا استعمال، محدود حواس اور طبیعی پہلوؤں سے ماورا میں قابلِ دید اور قابلِ دریافت ہے۔ اُس الٰہی الہام کا انکشاف اور گویائی ایک محدود دورے سے متعلّق نہیں اور اُس کے نور کی درخشانی کی جھلک ابد تک خود اُس پیغامِ الٰہی کی حقّانیت پر حجّت ہے۔ [1]
قرآن کی آیتیں اور الفاظ ایک بسیط اور لا متناہی واقعیت کی تجلّی اور روشن دلیل ہیں۔ قرآن ایک کہکشانی مشابہت رکھتی ہے جس کے بطن میں متعدّد مراتب پوشیدہ ہیں۔ قرآنی علوم کی گہرائی تک لطفِ خداوندی کے بغیر رسوخ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اگر ہم قرآن کی آیات اور اُس کے الفاظ کا صرف ظاہری معنیٰ کے تحت اور اپنی معنویت کی گہرائیوں میں نفوذ کیے بغیر مطالعہ کریں تو قرآنی معنوں کا صرف سطحی طور پر سامنا ہوگا اور قرآن کے پوشیدہ راز ہم سے مخفی رہیں گے۔ فقط باطنی دریافت کے ذریعے کسی شخص کے لیے قرآن کی لامتناہی اور ابدی واقعیت کے انکشاف کا حصول ممکن ہے۔
جلال الدین رومی، متخلّص بہ مولوی، حقیقتِ قرآن کی دریافت اور ادراک کے مختلف درجات کے فرق کے بارے میں یوں کہتے ہیں: بعض لوگ اِس راہ میں دودھ پیتے بچّوں کی مانند قرآن کے لفظی معنوں کا ادراک حاصل کرتے ہوئے اُس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن وہ لوگ، جنھوں نے اُس کی شناخت کی راہ میں سلوک اختیار کر لیا ہے، اُس کے گہرے معنے دریافت کرتے ہیں اور اُن کے لیے ایک اَور ہی لذّت ہے۔
مکتبِ قرآن کے طالبِ علم کو چاہیے کہ قرآن کے معنوں کو ظاہری اور باطنی طور پر دریافت کر کے ادراک حاصل کرے اور اُس کی تعلیمات کو مکمّل یگانگت میں کشف کرے۔
مولوی اپنی "مثنویٔ معنوی" میں قرآن کے پوشیدہ بطون اور رازوں کے بارے میں یوں کہتے ہیں:
تم قرآن کے صرف ظاہری معنوں تک محدود نہ رہو۔
اُس کے ظاہر کے نیچے ایک قوی باطن بھی موجود ہے۔
اُس کے باطن کے نیچے ایک اور بطن ہے
جہان انسان کی فکر و نظر خیرہ ہو جاتی ہیں۔
اُس کے چوتھے بطن کی خبر کسی کو بھی نہیں ملتی۔
سواے بے نظیر اور غیر مرئی پروردگار کے۔
اے معزّز انسان! قرآن کے سات بطن ہیں،
اِس مضبوط حدیث کو تو تھام لے۔
اے بیٹے! تم قرآن کے صرف ظاہر کو مت دیکھو۔
دیو کو انسان مٹّی کے علاوہ اَور کچھ نظر نہیں آتا۔
قرآن کا ظاہر آدم ذات کی مانند ہے
کہ اُس کے نقوش تو ظاہر ہیں، مگر اُس کی روح پوشیدہ ہے۔
_____________________________
1. Kenneth Cragg and R. Marston Speight, Islam from Within: anthology of a Religion, Wadsworth Publishing Company, 1980, p.18

قرآنِ کریم
سرگرمیاں
MTO Sufi Association ®
ایم ٹی او صوفی ایسوسی ایشن: ایم ٹی او صوفی ایسوسی ایشن کے طلبہ کا ہدف دوسرے طلبہ کو تصوّف سے متعارف کرانا اور اسی طرح اپنے اور معاشرے کے ساتھ اپنے ماحول میں تصوف کے اصولوں خودشناسی، عشق، وحدت، صلح اور نیکو کاری کا تجربہ کرنا ہے۔۔۔
> مزید معلومات کے لیے
MTO College ®
ایم ٹی اوکالج ایک ادارۂ تربیت اور تدریس، مشورت گاہِ ثقافت اور مڈل اسکول کی جماعتوں سے یونیورسٹی کی تعلیم اور اُس سے آگے تک طالبِ علموں کے لیے مخصوص مرکزِ رہنمائی ہے۔ یہ ادارہ AQA, Edexcel, OCR کے ایک مرکزِ رسمی کے طور پر GCSE ہائی اسکول کے نصابات اور یونیورسٹیوں سے قبل A level & AS کے امتحانات منعقد کروانے کے لیے تسلیم شدہ ہے۔
> مزید معلومات کے لیے
MTO Holistic Health Center ®
ایم ٹی او کلّی مرکزِ صحت M.T.O. Holistic Health Center کا ہدف ہر عمر کے افراد کے لیے بہتر زندگی اور بہترین صحت کے لیے خدمات کی پیش کش ہے۔ طبّی معالجین اور جڑی بوٹیوں سے علاج کے ماہرین اور ہماری ٹیم کے دیگر ماہرین کے توسّط سے، جو اپنے اپنے میدانوں میں سندیافتہ اور اجازت یافتہ ہیں، اس جدید اورعلمی سامان سے آراستہ مرکز میں کلّیۂ تجویزات و ادویہ کا کام سرانجام پا رہا ہے۔۔۔
> مزید معلومات کے لیے
MTO Sufi Psychology ®
ایم ٹی او انجمنِ نفسیات مبنی بر عرفان M.T.O. Sufi Psychology ، انسانی نفسیات پر تصوّف کے اثرات پر تحقیق و تجربہ کرنے والے ماہرینِ نفسیات، نفسیاتی علاج کے ماہرین، اطبّا اور شعبوں سے وابستہ محقّقین کے توسّط سے قائم شدہ، اور۔۔۔
> مزید معلومات کے لیے
MTO Tamarkoz ®
چودہ صدیوں سے مراقبۂ عرفانی کی جچی تُلی مشقیں معنوی تحقیقات کی قلم رو میں متلاشیوں کے لیے قیادت اور راہ کشائی کی حامل ہے۔ اِن تعلیمات سے حاصل ہونے والے اثرات و تجربات نے اِس شعبے میں تمام معیارات منقلب کردیے ہیں اور اُنھیں ثروت مند بنایا ہے۔ مراقبے کی مشقیں فرد کے طبیعی، نفسیاتی اور روحانی مراتب سے قطعِ نظر اُس کے وجود کے تمام شعبوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ مراقبے سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ حضور میں محض تسلیمِ وجود رہیں اور در حقیقت فقط رہیں تا کہ بیداریٔ وجداں کا تجربہ کر سکیں۔
> مزید معلومات کے لیے