قرآن اور علم
" قالَ رَبّی يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّماء ِ وَ الأَرْضِ وَ هُوَ السَّميعُ الْعَليمُ ".
(انھوں نے) کہا: جو بات آسمان اور زمین میں ہے، میرا پروردگار اُسے جانتا ہے اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
قرآن کریم (سورۂ۲۱/انبیا، آیت۴)
" عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعالِ ".
وہ غیب و شہود کا جاننے والا ہے، بزرگ اور بلند ہے۔
قرآن کریم (سورۂ۱۳/الرعد، آیت۹)
قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خداوندِعالم کا علم لامتناہی ہے۔ ایک چھوٹے ذرّے سے لے کر کہکشاؤں تک زمین و آسمان کو احاطہ کیے ہوئے۔
" عالِمِ الْغَيْبِ لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْأَرْضِ وَ لا أَصْغَرُ مِن ذَلِكَ وَ لا أَكْبَرُ إِلّا فِی كِتابٍ مُبيـنٍ".
(وہ خداوند) غیب کا جاننے والا (ہے)، زمین و آسمان کا کوئی ذرّہ بھی اُس سے پوشیدہ نہیں اور نہ اُس (ذرّے) سے چھوٹی اور نہ بڑی کوئی چیز (اُس سے پوشیدہ ہے)، مگر یہ کہ وہ واضح کتاب میں موجود ہے۔
قرآنِ کریم (سورۂ۳۴/سبا، آیت۳)
خداوند سورۂ بقرہ کی آیات ۲۹ تا ۳۳ میں فرماتا ہے کہ علمِ الٰہی انسان میں پوشیدہ ہوتا ہے اور خداوند نے آدم کو رُوے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور اُسے علم الاسماء سکھا دیا۔
"هو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا ثم استوى الى السماء فسواهن سبع سماوات و هو بكل شيء عليم (29)
و اذ قال ربك للملائكة اني جاعل في الارض خليفة قالوا ا تجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء و نحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال اني اعلم ما لا تعلمون (30)
و علم آدم الاسماء كلها ثم عرضهم على الملائكة فقال انبئوني باسماء هؤلاء ان كنتم صادقين (31)
قالوا سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم (32)
قال يا آدم انبئهم باسمائهم فلما انباهم باسمائهم قال ا لم اقل لكم اني اعلم غيب السماوات و الارض و اعلم ما تبدون و ما كنتم تكتمون (33) ".
"وہ، وہ پروردگار ہے جس نے رُوے زمین پر جو کچھ ہے، اُسے تمھارے لیے بنایا اور اُس کے بعد آسمان کی طرف توجّہ دی اور اُسے سات آسمانوں کی صورت بلند کیا اور وہی ہے ہر چیز کا جاننے والا۔
"اور جس وقت تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو اُنھوں نے کہا: کیا تُو زمین پر کسی ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا۔ حالاں کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔
"ارشاد ہوا: جو کچھ میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ اور آدم کو سارے نام سکھا دیے۔ اُس کے بعد فرشتوں سے کہا: اگر تم سچّے ہو تو اِن ناموں کے بارے میں مجھے خبر دو۔
"اُنھوں نے کہا: تُو منزّہ ہے۔ ہمیں کوئی علم نہیں، مگر وہی جو تُو نے ہمیں سکھایا ہے۔ بے شک تُو جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
"کہا: اے آدم! اُنھیں اُن ناموں کے بارے میں خبر دو، اور جس وقت آدم نے اُنھیں اُن سب کے ناموں کی خبر دی تو پروردگار نے کہا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ جو کچھ زمین و آسمان کا غیب ہے، میں اُسے جانتا ہوں۔اور میں وہ کچھ بھی جانتا ہوں، جسے تم علانیہ اور چھپا کر بجالاتے ہو۔"
قرآنِ کریم میں بہت ساری آیات اِس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ خداوند نے کس طرح اپنے بندوں کی ہدایت کی ہے اور کس طرح علمِ الٰہی کو اُن پر آشکار کرتا ہے۔ یہ آیات بنیادی طور پر بیّنہ اور نشانیاں ہیں جو اسرارِ ہستی کو نمایاں کرتی ہیں۔ قرآنِ کریم کے پوشیدہ علوم و اَسرار اُن لوگوں پر واضح ہوجاتے ہیں جن کے دل نورِ علم سے روشن ہوئے ہیں۔ خداوند قرآنِ کریم کی سورہ ۴۲ ،آیات ۵۱ تا ۵۳ میں فرماتا ہے:
و ما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحي باذنه ما يشاء انه علي حكيم (51)
و كذلك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب و لا الايمان و لكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا و انك لتهدي الى صراط مستقيم (52)
صراط الله الذي له ما في السماوات و ما في الارض الا الى الله تصير الامور (53)
کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ خداوند اُس کے ساتھ کلام کرے سواے وحی کے، یا پردے کے پیچھے سے، یا اپنا کوئی قاصد بھیج کر، جو اُس کی اجازت سے، جو وہ چاہتا ہے، اُس کی طرف وحی کرے۔ بے شک، وہ عالی رتبہ اور حکمت والا ہے۔اِسی طرح ہم نے اپنے امر میں سے ایک روح کے ذریعے تمھاری طرف وحی بھیجی۔ تمھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کتاب اور ایمان کیا ہیں۔ لیکن ہم نے اِسے ایک نور قرار دے دیا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جسے بھی چاہیں، ہدایت کریں۔ بے شک، آپ سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔اُس اللہ کا راستہ کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے۔ خبردار ہو جاؤ، تمام امور اُسی کی طرف لوٹتے ہیں۔
قرآنِ کریم (سورۂ۴۲/الشوری،آیات ۵۱ تا ۵۳)
سارے قرآنِ کریم میں خداوند انسان کو انسان میں پوشیدہ ازلی علم کے انکشاف کی جانب بلاتا ہے، جو اُس کی طبعی وجود کی حدود سے ماورا میں میسّر ہوتا ہے۔
مولانا صلاح الدین علی نادر عنقا مکتبِ طریقتِ اویسیٔ شاہ مقصودی کے موجودہ پیر فرماتے ہیں: دین کی حقیقت کا انکشاف شہود و یقین پر مبنی ہے، اور یقین اُسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ دریافتِ علم کی بنیادوں پر قائم ہو، جو خداوند کی طرف سے ایک عطیہ ہے، کسی اَور کی طرف سے نہیں۔ علم ہی ہے جو یقین پر منتہی ہوتا ہے۔1 حقیقت کا مشاہدہ یقین اور سکون کو زندگی کی سوغات بنا دیتا ہے۔ عرفان کے مکتب میں "حقیقت دین" کا انکشاف اپنے وجود کی گہرائی میں نورِ الٰہی کی دریافت کے ذریعے مورد نظر ہوتا ہے۔

Molana Salaheddin Ali Nader Shah Angha, Sufism, The Reality of Religion (Riverside, CA: M.T.O. Publication, 2000) p. 70.
سرگرمیاں
MTO Sufi Associations ©
MTO Sufi Association کے طلبہ کا ہدف دوسرے طلبہ کو تصوّف سے متعارف کرانا اور اسی طرح اپنے اور معاشرے کے ساتھ اپنے ماحول میں تصوف کے اصولوں خودشناسی، عشق، وحدت، صلح اور نیکو کاری کا تجربہ کرنا ہے۔۔۔ … مزید معلومات کے لیے
MTO College ©
M.T.O. Collegeایک ادارۂ تربیت اور تدریس، مشورت گاہِ ثقافت اور مڈل اسکول کی جماعتوں سے یونیورسٹی کی تعلیم اور اُس سے آگے تک طالبِ علموں کے لیے مخصوص مرکزِ رہنمائی ہے۔ یہ ادارہ AQA, Edexcel, OCR کے ایک مرکزِ رسمی کے طور پر GCSE ہائی اسکول کے نصابات اور یونیورسٹیوں سے قبل A level & AS کے امتحانات منعقد کروانے کے لیے تسلیم شدہ ہے۔ … مزید معلومات کے لیے
MTO Holistic Health Center© ایم ٹی او سے وابستہ جامع مرکزِ علاج M.T.O. Holistic Health Center کا ہدف ہر عمر کے افراد کے لیے بہتر زندگی اور بہترین صحت کے لیے خدمات کی پیش کش ہے۔ طبّی معالجین اور جڑی بوٹیوں سے علاج کے ماہرین اور ہماری ٹیم کے دیگر ماہرین کے توسّط سے، جو اپنے اپنے میدانوں میں سندیافتہ اور اجازت یافتہ ہیں، اس جدید اورعلمی سامان سے آراستہ مرکز میں کلّیۂ تجویزات و ادویہ کا کام سرانجام پا رہا ہے۔۔۔ … مزید معلومات کے لیے
MTO Sufi Psychology ©
ایم ٹی او انجمنِ نفسیات مبنی بر عرفان M.T.O. Sufi Psychology ، انسانی نفسیات پر تصوّف کے اثرات پر تحقیق و تجربہ کرنے والے ماہرینِ نفسیات، نفسیاتی علاج کے ماہرین، اطبّا اور شعبوں سے وابستہ محقّقین کے توسّط سے قائم شدہ، اور۔۔۔ … مزید معلومات کے لیے
MTO Tamarkoz ©
چودہ صدیوں سے مراقبۂ عرفانی کی جچی تُلی مشقیں معنوی تحقیقات کی قلم رو میں متلاشیوں کے لیے قیادت اور راہ کشائی کی حامل ہے۔ اِن تعلیمات سے حاصل ہونے والے اثرات و تجربات نے اِس شعبے میں تمام معیارات منقلب کردیے ہیں اور اُنھیں ثروت مند بنایا ہے۔ مراقبے کی مشقیں فرد کے طبیعی، نفسیاتی اور روحانی مراتب سے قطعِ نظر اُس کے وجود کے تمام شعبوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ مراقبے سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ حضور میں محض تسلیمِ وجود رہیں اور در حقیقت فقط رہیں تا کہ بیداریٔ وجداں کا تجربہ کر سکیں۔ … مزید معلومات کے لیے