قوتوں کا ارتکاز اور وحی

حضرت مولانا شاہ مقصود صادق عنقا اپنی کتاب "الرّسائل" کے رسالے "سراج الہُدٰی" میں یوں فرماتے ہیں:

"سالک کا دل آئینے کی مانند خدا کے رازوں کو کھولنے والا ہے، اور جب باطنی غوروفکر خصوصیات اور آئینے کی شفّاف پاکیزگی کا مالک بن جاتا ہے، افکار کی تختی بھی حقیقت کے انکشاف کے راستے پر لگ جاتی ہے، اور آئینہ اپنی نابودی کے باوصف، وجود کی حقیقت کو اپنے اندر منعکس کرنے لگتا ہے، لیکن نزولِ وحی اور معنوی الہام کے وقت، قلب سینے میں درخشاں ہوجاتا ہے، ساتھ ہی دماغ کی اوپری سطح کا خاکستری حصّہ اُس کے جذبے سے مرتعش ہونے لگتا ہے اور اِس حیاتی موج کا حاصل افلاکی سطحوں تک وسیع ارتباط ہے، اور کائناتی اور ماوراے کائناتی امواج کو گرفت میں لینے لگتا ہے۔

اس عظیم وحدت کا حاصل دماغ، جسم اور قلب کی حسّاسیت ہے، جو تمام حواس کو حقیقت کے انکشاف میں ہم آہنگ کرکے اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ غیب کی امواج کا دل میں اترنا، اعضا کو متاثر کرتا ہے اور اُنھیں لرزا دیتا ہے اور یہ ربّانی شعاعیں ہیں جو دل کے آسمان کو روشن کرتی ہیں۔

خداوند مومنوں کا ولی ہے، جو اُنھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے۔"(قرآن ِمجید میں سورۀ "بقرہ" ۲/ آیت ۲۵۷ )

الله ولي اللذين آمنوا يخرجهم من الظلمات إلى النور

سارے بدن پر لرزہ طاری ہو گیا
جب مَے سے جام میں برق گر گئی
دل اُن ربّانی شعاعوں سے
سورج کی مانند روشن ہو جاتا ہے

یہ حقانی گرج چمک، سینے کو طور کی مانند پُرنور کر دیتا ہے جو نورٌ علٰی نور کا مظہر بن جاتا ہے۔ وجود کے مُلک و ملکوت کے درمیان کے حجابات بھی اٹھا دیے جاتے ہیں، اور جان کی آزادی کی سند پر مُہر لگ جاتی ہے اور تیرا مفروضہ وجود حد توڑ کر لامحدود حق سے جا ملتا ہے، اور اس وقت، لطیف لطیف کے ساتھ گھل مل جاتا ہے، اور جبریلِ امین نفخۀ ذات سے حاملِ وحی ہو جاتا ہے۔

نعمتِ حق شجر و حجر سے حاصل کر
بلکہ تمام ہستی سے حاصل کر

اپنے آپ سے نکل کر حق میں گم ہو جاتا ہے
موجیں مارنے والا قطرہ جب قلزم بنتا ہے

جان لو کہ: خداوند کی طرف سے وحی کے نزول کی برکتیں ازل سے ابد تک بغیر کسی تغیّر کے نپے تلے انداز میں ہیں، کیوں کہ "هُوَ عَلی کُلّ شَیءٍ قَدیر۔" جو کچھ نظر آتا ہے وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اور جو کچھ موجود ہے، نابود نہیں ہوگا۔ پس علم کی شان ایک نورانیت ہے۔

جب دل کے آئینے کو اُس کے جلال کی جِلا کے ذریعے پاک کرو گے اور اپنی جان کو نوح کی کشتی کی مانند اُس کے عشق کے سمندر میں اتارو گے تو جو کچھ تمھارے نصیب میں ہے اورغیب سے ملے گا، وہ حقیقتِ مصطفوی اور بابرکت محمّدی روح سے ہوگا۔

خدا کی وحی ازل سے ابد تک
احد کے سمندر سے موج خیز ہے

اگر تُو پاک و پاکیزہ مجرّد بنے گا
دلِ احمد سے وحی کا جویا ہوگا

خداے تبارک و تعالٰی فرماتا ہے: "اور کسی آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ خدا اُس سے بات کرے، مگر وحی (کے ذریعے) سے، یا پردے کے پیچھے سے، یا کوئی قاصد بھیج دے تو وہ خدا کے اِذن سے جو وہ چاہے، وحی کرے۔ بے شک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے۔"(سورۀ "شورٰی"۴۲/ آیت ۵۱/ )

و ما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب أو يرسل رسولا فيوحي بإذنه ما يشاء إنه علي حكيم.

یہ آیات اِن معنوں میں ہیں کہ قرآن کریم نے وحئ حق کے مقاصد کو ختم کیا اور مومن کا دل، میزانِِ عدل اور ہدایتِ حق سے باطنی اور ظاہری طور پر حضرت محمّد مصطفٰی رسُولِ مُکرّم صلّی الله علیه و آله و سلّم کی وساطت سے اپنی معنوی بلندی کو اُس پیمانے پر پرکھے، اور جو کچھ مخالف پائے، اُسے رد کر دے اور جس کی تصدیق ہوجائے، اُسے مطلوب جان کر توجّہ دے کیوں کہ قرآن حق کا میزان ہے، اور سالک کے سفر کی انتہا بھی اُسی کے ساتھ ہے۔1

_____________________________

1 - Sadegh ANGHA, Hazrat Shah Maghsoud, Al Rasa'el, University Press of America, Lanham, 1986, pp. 103-104.

قرآن